شال: (ہمگام نیوز) قابض پاکستان کے میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔
واضح رہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز لندن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔
اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت کو منسوخ کرنے کے متنازع اقدام کے بعد سے تجارتی تعلقات معطل ہو گئے تھے۔
مارچ 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پابندی ہٹانے کے قریب تھی جب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھارت کے ساتھ جزوی طور پر تجارت کھولنے کے حق میں تھے۔
اس وقت کے قابض پاکستان کی گدھ فوج کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ماتحت سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بے چین تھی۔
ابھی پاکستانی میڈیا کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے اس مرحلے پر کوئی ٹھوس تجویز زیر غور نہیں ہے۔
کل قابض پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستان سے تجارت چاہتے ہئں جبکہ ابھی دوسرا دھڑا اسکی مخالفت کررہا ہے۔ اس سے ایک چیز منکشف ہوا ہے کہ قابض پاکستان کی گدھ فوج میں اختلافات کھل کر سامنے ارے ہیں اور پارلیمانی لوگ بھی اپنے اپنے دھڑے کی نمائندگی کرتے ہوے بیانات دے رے ہیں کیونکہ نواز شریف اور باجوا ہندوستان سے تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں اور باجوا کو امریکہ لابی سمجھا جاتا ہے جو ہندوستان سے تعلقات بہتر رکھ کر چین کو آوٹ کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف خواجہ آصف شہباز شریف کی ڈوریاں آصف منیر کے ہاتھ میں ہے جو بھارت مخالف ہے اور وہ باجوا کے بھی خلاف ہے قابض پاکستان مکافات اعمال کا شکار ہے۔


