یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںلاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2263دن ہوگئے

لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2263دن ہوگئے

کوئٹہ (ہمگام نیوز)لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو2263دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بلوچ نیشنل پارٹی ( بی این پی کو ہلو کے یونٹ سیکرٹری میر سبزل علی مری اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اس وقت جبری علمداری ستون پر کھڑی ہے چور ڈاکوں قاتل منشیات فروشوں سماج دشمن عناصر اور قومی غداروں پر مشتمل خفیہ اداروں کی تخلیق ڈیتھ اسکوارڈ کے گرہوں بظاہر نام نہادم ارکان اسمبلی اور ڈیتھ سکوارڈ کے قتل ایک دوسرے سے الگ اور مخالف ہیں مگر حقیقت میں وہ سب ایک ہیں کابینہ کے ارکان اور ڈیتھ اسکوارڈزکے ارکان ایک ہی سکہ کے دوزخ ہیں ان کا آقا بھی ایک ہے اور ان کا مقصدر بھی ایک ہے وائس فار مسنگ پرسنز ماما قدیر بلوچ نے وفد سے کہا کہ بلوچ سیاسی رہنماوں کارکنوں اور بلوچ بستیوں کے خلاف خفیہ اداروں کے آپریشنز کی منظوری دیتے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ کو جان بوجھ کر بھی ایک ایسے پسماندگی کی ماحول میں دکھیلنے کی ہر ممکن کوشش و قوت استعمال کی جارہی ہے وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کہاکہ لیکن بلوچ قوم کی خوش قسمتی ہے کہ کچھ بالغ ولنظر نوجوانوں نے دنیا کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ اب ہمیں اپنی قوم کیلئے اپنے نوجوانوں کو ایک ایسی فلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو آنے والے وقتوں میں انسانیت کے دشمنوں کا پہنچان کرکے بلوچ قوم کو تمام مکاروں کی مکاری سے آگاہ کریں۔ ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ آج نفسیات کے ماہرین کی بہت بڑی تعداد کو بلو چ جہد کے خلاف ایکٹو کیا ہے وہ بلوچ کی معمولی حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ قومی تحریک کے خلاف مدد کرتے ہیں وہ بلوچ دشمنی کا یہ ہلاکت خیز عمل کو بلوچ نمائندگی و جمہوریت کے خوب صورت نام پر کرتے ہیں جب کہ بلوچ شہداء اور عقوبت خانوں میں جبری لاپتہ فرزندوں سمیت فوری بلوچ قوم کی قربانیاں بلو چ کے حصول کے لئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز