سوراب (ہمگام نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین اور جبری گمشدگیوں کے خلاف طویل جدوجہد کرنے والے معروف انسانی حقوق کے رہنما ماما قدیر بلوچ کو ان کے آبائی علاقے سوراب میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپردِ گلزمین کر دیا گیا۔
نمازِ جنازہ اور تدفین میں انسانی حقوق کے کارکنان، سیاسی و سماجی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، خواتین اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔
اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا کہ ماما قدیر بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک مضبوط، بے خوف اور توانا آواز تھے۔ ان کی وفات نے ان ہزاروں خاندانوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے جن کے پیارے آج بھی لاپتہ ہیں اور جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے 6 ہزار دنوں پر مشتمل تاریخی احتجاجی دھرنا دیا۔ انہوں نے کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک طویل اور پیدل لانگ مارچ کر کے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بلوچ عوام کے مسائل اور جبری گمشدگیوں کے معاملے کو اجاگر کیا۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماما قدیر بلوچ کی قربانیاں اور جدوجہد بلوچ عوام کی حقوق کی تحریک کا ایک اہم باب ہیں، اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


