خاش (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق، گزشتہ روز بدھ 11 فروری 2026 کی صبح سویرے، خاش کے علاقے محمودآباد میں ایک گھر پر قابض ایرانی فورسز کے چھاپے کے دوران کم از کم چار بلوچ شہری جابحق جبکہ کم از کم دو افراد، جن میں ایک کم عمر نوجوان بھی شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت “خالد براہوئی” ولد خدارحم، ساکن محمودآباد خاش کے طور پر ہوئی۔ لاپتہ ہونے والے میں “خدارحم براہوئی” (خالد کے والد) اور ان کا ایک کم عمر بیٹا شامل ہیں، تاہم اس نوجوان کی مکمل شناخت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق یہ چھاپہ خدارحم براہوئی کے گھر پر مارا گیا۔ چھاپہ کے دوران خالد براہوئی اور تین دیگر افراد، جو گھر میں مہمان کے طور پر موجود تھے، قابض ایرانی فورسز کی فائرنگ سے جابحق ہو گئے، جبکہ خدارحم براہوئی اور ان کے دوسرے کم عمر بیٹے کو حراست کے بعد جبری لاپتہ کر دیا۔
قابض ایرانی فورسز سپاہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے خاش اور زاہدان میں “چار افراد کی ہلاکت اور چند دہشت گردوں کی گرفتاری” کی اطلاع دی ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ افراد حالیہ دنوں میں جنوب مشرقی علاقے میں ہونے والی متعدد مسلح کارروائیوں میں ملوث تھے۔


