شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںمستونگ: اسلم ولد کنڑ خان کی جبری گمشدگی کے شواہد نے سی...

مستونگ: اسلم ولد کنڑ خان کی جبری گمشدگی کے شواہد نے سی ٹی ڈی کی مبینہ انکاؤنٹر کا پول کھول دیا۔

مستونگ (ہمگام نیوز) بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے 19 جنوری 2026 کو ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تھا، جو مبینہ طور پر کوئٹہ سبی شاہراہ کو بلاک کرنے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
بیان میں مزید دعوی کیا گیا کہ ادارے نے کارروائی کے دوران اسلحہ، دستی بم اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کرلی گئیں ہیں

تاہم، اس کارروائی کے بعد بلوچ حقوق کے کارکنان، لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سی ٹی ڈی کے مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک فیک انکاؤنٹر قرار دیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP)، بلوچ نیشنل موومنٹ کے شعبۂ انسانی حقوق (پانک) اور ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان (HRCB) کے مطابق، بلوچستان میں پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے عام بلوچ شہریوں کو حراست میں قتل کر کے بعد ازاں انہیں “دہشت گرد” قرار دیا جاتا ہے، جسے وہ مبینہ “کل اینڈ ڈمپ” پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

انسانی حقوق سے وابستہ تنظیموں کے مطابق سی ٹی ڈی کی جانب سے مبینہ مقابلے میں مارے گئے افراد میں اسلم ولد کنڑ خان بھی شامل ہیں، جن کی جبری گمشدگی کے شواہد پہلے ہی منظرِ عام پر آکر وسیع پیمانے پر میڈیا میں شائع بھی ہو چکے تھے۔

یاد رہے اس حوالے سے ہمگام نیوز نے 17 جنوری 2025 کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ “ پاکستانی فورسز نے کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی میں سرچ آپریشن کے دوران ایک بلوچ نوجوان کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔ لاپتہ نوجوان کی شناخت اسلم ولد کنڑ خان کے نام سے ہوئی تھی، جو ضلع قلات کے علاقے نرمک کا رہائشی بتایا جاتا ہے”۔

رپورٹ کے مطابق اسلم فصل بیچنے کے سلسلے میں ہزارگنجی آیا ہوا تھا، جہاں سے اسے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ اسلم کی جبری گمشدگی سے متعلق مکمل خبر، عینی شواہد اور تفصیلات ہمگام نیوز کی ویب سائٹ پر اسی روز شائع کی گئی تھیں جو تاحال ہمگام ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

ان شواہد کے منظرِ عام پر آنے کے بعد، مستونگ میں ہونے والے حالیہ مبینہ انکاؤنٹر کے سرکاری دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ سی ٹی ڈی کے ذریعے پہلے سے غائب شدہ اور پاکستانی فوج کے عقوبت خانوں میں بند بلوچ سیاسی کارکنان کو نکال کر شہید کیا گیا ہے، عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ بلوچ سرمچاروں کی جانب کسی شدید حملے میں پاکستانی فوج کو زیادہ نقصان ہونے کی صورت میں عقوبت خانوں سے بلوچ نوجوان سیاسی کارکنان کو نکال کر مبینہ جعلی مقابلوں میں شہید کیا جاچکاہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں زمہ دار ذرائع پاکستانی فوج کی اس عمل کو حساب برابر کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لئیے کسی بھی بلوچ سیاسی قید کو شہید کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز