مستونگ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کےعلاقہ مستونگ کے ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر دشت کی رپورٹ کی بنیاد پر لیویز فورس دشت کے 12اہلکاروں کو نوکری سے یہ بہانہ بناکر برطرف کردیا کہ گزشتہ دنوں نامعلوم مُسلح افراد نے لیویز تھانہ دشت پر حملہ کرکے تھانے کو نظر آتش اور اسلحہ ضبط کرلیا تھا، مگر وہ اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہے تھے۔
سیاسی سماجی انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد بھاری تعداد میں تھے دوسری جانب حقائق یہ ہیں کہ بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود مسلح افراد کے سامنے روزانہ ناک رگڑ رہے ہیں ، تو ایسے میں محض 12 لیویز اہلکار مسلح افراد جوکہ آزادی کے دعویدار ہیں انھیں کیسے روک سکیں گے۔
اگر ناکامی کی بات ہے تو پیادہ سپائی ہی کیوں فارغ کیئے جارہے ہیں وزیر اعلی، وزیر ،سیکٹریز ،ڈی آئی جی ،کمشنر ڈپٹی کمشنر حتی کہ اسسٹنٹ کمشنر بھی بڑی بے شرمی سے سیٹوں پر چمٹے ہوئے ہیں انھیں بھی فارغ کرنا چاہئے اس کا ذمہ صرف لیویز اہلکاروں پر ڈال کر انکے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننا کہاں کی انصاف پسندی ہے۔
واضح رہے گزشتہ روز مستونگ کردگاپ کے 18 لیویز اہلکاروں کو ان کی نوکریوں سے اسی الزام کے تحت فارغ کیاگیا تھا مگر اسسٹنٹ کمشنر سمیت کسی افسر کو نہیں چھیڑا گیا تھا۔


