نوشکی / پنجگور /خاران/ سوراب ( ہمگام نیوز )مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے قابض پاکستانی فورسز نے فوج جارحیت دوران 30 سے زائد افراد کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق نوشکی میں دوروز سے پاکستانی فورسز نے بڑی تعداد میں کلی مینگل و قادر آباد کے علاقوں کو گھیرے میں لے کر گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کو زد و کرنے کے بعد کم از کم 22 افراد کو حراست میں لے کر فورسز اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر منتقل کردیئے۔
تاہم علاقہ میں کشیدہ حالات کی وجہ سے لاپتہ افراد کے تفصیلات نہیں مل سکے ہیں کیوں کہ کلی قادر آباد اور کلی جمالدینی بدستور فوجی محاصرے میں ہیں۔
علاوہ ازیں خاران میں پاکستانی فوج نے گزشتہ دنوں لوکل مخبروں کے ہمراہ خاران کے متعدد پہاڑی علاقوں بشمول جورکین، لنڈو، ہلمرگ و دیگر مقامات پر جارحانہ آپریشن کا آغاز کردیاتھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق فوج کے ساتھ مقامی مخبر جن میں بدنام زمانہ صوفی ممتاز ساسولی کارندوں سمیت شامل تھا۔
آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے جورکین سے تین افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جن کی شناخت غلام آللہ ولد خیر محمد، علی نواز ولد اللہ بخش، شاہ دوست ولد نورل کے ناموں سے ہوا ہے۔
فورسز نے دوران آپریشن متعدد لوگوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور لوگوں کی تذلیل کی۔
آپریشن کے دوران فورسز نے تمام مقامات بلخصوص ہلمرگ و جورکین میں چند گھروں کو مارٹر گولوں سے تباہ کیا جبکہ متعدد گھروں کے کمروں کو سامان سمیت نذر آتش کردیا۔ فورسز نے درجنوں گاڑیوں و موٹرسائکل کو بھی جلا دیا۔
دوسری جانب فورسز کے اہلکاروں و مقامی مخبروں کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ مقامی مخبروں و فوجی اہلکاروں نے آپریشن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے متعدد دکانوں و گھروں کا صفایا کردیا۔ سونا، نقدی و دیگر قیمتی سامان کے علاوہ گھروں میں موجود خواتین کے کپڑے بھی ساتھ لے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز علاقے سے قریب چالیس موٹرسائیکل بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
اس طرح پنجگور کے علاقے پل آباد میں پاکستانی فورسز نے گذشتہ دنوں چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا اب تک حراست میں لیے گئے افراد میں سے دو کی شناخت عنایت اور رشید کے ناموں سے ہوا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فورسز نے کارروائی کے دوران گھروں کی تلاشی لی اور کئی افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
تاحال پل آباد سے حراست میں لیے گئے دیگر افراد کی شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
دریں اثناء سوراب ماراپ کے رہائشی دونوجوان 26 سالہ تیمور ولد امام بخش اور31 سالہ مرتضی ولد یحیی ساکنان ماراپ سوراب 9 فروری کو 5 بجے شام ایف سی چوکی واقع آرسی ڈی روڈ سے لاپتہ ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق انھیں ایف سے نے چوکی سے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے۔


