مہاباد ( ہمگام نیوز ) کرد شہری سالار خلیفہ زادہ، 43 سالہ باشندہ مہاباد، کو تقریباً 12 روز قبل ایرانی قابض حکومت کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا، اور اب تک اس کی حالت یا مقامِ حراست کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، پیر 5 آبان 1404 کو مہاباد میں انٹیلیجنس کے اہلکاروں نے سالار خلیفہ زادہ کو بغیر عدالتی وارنٹ کے فاطمیہ اسکول کے قریب اس کے کھانے کے اسٹال سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

خلیفہ زادہ کے اہلِ خانہ نے اس کی گرفتاری کے بعد کئی بار مہاباد کے انٹیلیجنس دفتر سے رابطہ کیا، لیکن اس ادارے نے اس کی جسمانی حالت، مقامِ حراست یا الزامات کے بارے میں کوئی جواب دینے سے انکار کر دیا۔

اب تک اس کی گرفتاری کی وجوہات، الزامات یا صحت کی حالت کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، اور اس کی گمشدگی نے اہلِ خانہ کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔