شال (ہمگام نیوز) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز بدھ تنظیم کے مرکزی جنرل سیکرٹری حوران بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6062ویں روز جاری رہا۔
مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حوران بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، بلوچستان میں ملکی ادارے جبری گمشدگیوں میں شدید تیزی لائی ہے، پہلے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو جبری لاپتہ کیا جارہا تھا، اب تو بلوچ خواتین کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ماہ جبین، نسرینہ، فرزانہ، رحیمہ، حیرالنساء اور فاطمہ بلوچ کو سیکورٹی فورسز نے مختلف اوقات میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے غیرقانونی طریقے سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ان جبری لاپتہ بلوچ خواتین کے لواحقین اپنے پیاروں کے باحفاظت بازیابی کے لیے احتجاج کررہے ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ بلوچ خواتین کو منظر عام پر لایا جارہا ہے اور نہ ہی ان کے سلامتی کے حوالے سے ان کے خاندان کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جو باعث تشویش اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ افراد بالخصوص بلوچ خواتین کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔
حوران بلوچ نے سیاسی پارٹیوں، طلباء تنظیموں اور انسانی حقوق کی اداروں سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مخاطب ہوکر کہا کہ وہ جبری گمشدگیوں بالخصوص بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں پر خاموشی نہیں رہے بلکہ ان ماورائے قانوں اقدامات کے خلاف بھرپور آواز اٹھا کر اپنی احتجاج ریکارڈ کرائیں، تاکہ لاپتہ افراد خاص کر بلوچ خواتین کی باحفاظت باریابی کو یقینی بنایا جاسکے اور جبری گمشدگیوں کا راستہ روکا جاسکے۔


