یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںپاکستانی خفیہ ادارے بیرون ملک مقیم بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے...

پاکستانی خفیہ ادارے بیرون ملک مقیم بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنا رہے، انسانی حقوق کے کارکن رملہ بلوچ کے گھر پر چھاپہ اور گھر والوں کو ہراساں کرنے کی کوشش۔

شال (ہمگام نیوز) قابض پاکستانی خفیہ اداروں پر الزام ہے کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جلاوطن بلوچ سیاسی کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے، نگرانی کرنے، اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی مہم چلا رہےہیں، جو مبینہ طور پر منظم دباؤ کے اقدامات کے ذریعے انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔

اس معاملے میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں، جو بلوچ حقوق کے کارکنوں، بلاگرز، صحافیوں اور بلوچ تحریک کے حامی محققین کی جانب سے ہیں، جن کا دعوی ہے کہ انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

حال ہی میں ایک سرگرم بلوچ کو ایک مغربی سکیورٹی ایجنسی نے خبردار کیا کہ ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے، جو مبینہ طور پر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والے ان کے کام سے متعلق ہے۔

کئی جلاوطن سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کے رشتہ داروں کو ہراساں کرنے، دھمکانے، اور بعض صورتوں میں اغوا کرنے کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً جفر ایکسپریس ٹرین پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حملے کے بعد۔ زیادہ تر لوگ خوف کے سبب عوامی سطح پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

رملہ بلوچ، جو امریکہ میں مقیم ایک بلوچ خاتون ہیں اور جنہوں نے اپنی مکمل شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ بیرون ملک بلوچ سیاسی کارکنوں سے ملاقات کے بعد ان کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران ان کے کزن کو اغوا کیا گیا، جو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

رملہ بلوچ کے مطابق چھاپہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گھر والوں سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور گھر والوں کو ہراساں کیا گیا۔

دیگر سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انھیں براہِ راست دھمکیاں دی گئیں۔ پاکستانی فلم ساز اور انسانی حقوق کے کارکن روشن خٹک، جو گرفتار پاکستانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک کے کزن ہیں اور جو فوجی مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں، کا دعوی ہے کہ انہیں دسمبر میں ایک دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا، جسے وہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے منسوب کرتے ہیں۔

30 جولائی کو برطانوی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ انھیں اس بات کے شواہد موصول ہوئے ہیں کہ نام نہاد ’’سرحد پار دباؤ‘‘ یعنی غیر ملکی ناقدین کو ڈرانے یا نقصان پہنچانے والے اقدامات برطانوی زمین پر بھی کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان، ایران، روس اور ترکی کا نام لیا گیا۔ سیاسی کارکنوں اور حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسے اقدامات کرنے والے ممالک میں سب سے زیادہ سرگرم ہے۔

اسلام آباد نے ان الزامات پر تاحال کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا، جس سے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں اور حقوق کے گروپوں میں جاری خطرات اور سرحد پار دباؤ اور احتساب کے وسیع چیلنجز کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز