کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی پاکستان کی سازش کو ایک ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بلوچ جہد آزادی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے بلوچستان کی سیکولر فضا میں مذہبی منافرت کا بیج بو رہا ہے۔ اس پالیسی کو بلوچستان کے کونے کونے اور چھوٹے دیہاتوں تک پھیلایا جارہا ہے۔ مذہب کے نام پر دہشت گرد گروہوں کی آبیاری کرکے بلوچ کو آپس میں لڑانے کی کوششیں عروج پر ہیں ۔کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا قتل عام کے بعد دوسرے بلوچ علاقوں مستونگ ، قلات، سوراب کے بعد مکران میں اس کی کئی مثالیں سامنے آچکی ہیں ۔ اسی طرح ضلع خضدار کے علاقے گریشہ میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کیلئے ذکری زائرین پر بم حملے کئے گئے۔ اب بھی کچھ عناصر گریشہ و گرد و نواح میں اپنے انہی مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بر سر پیکار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ 23 اکتوبر کو گریشہ کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران کئی افراد کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا تھا، جن میں سے دو بھائیوں مراد بلوچ اور فقیر بلوچ کی لاشیں کل اسی علاقے میں پھینکی گئی تھیں۔ لاشوں پر شدید تشدد کے نشانات ہیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان بلوچ فرزندوں کو شدید تشدد کے دوران شہید کیا گیا ہے جو کہ پہلے بھی ہزاروں بلوچوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔جھاؤ آپریشن اور بولان میں آپریشن مسلسل جاری ہے۔ جھاؤ کے علاقے جہل جھاؤ، وادی اور شندی میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایک درجن فوجی گاڑیوں نے ان علاقوں میں گھس کر بہار ولد بجار اور دیگر چار افراد پر تشدد کرتے ہوئے اغوا کرکے لے گئے۔آپریشن کے دوران خواتین و بچوں پر انسانیت سوز تشدد بھی کی گئی ہے۔اگلی صبح ان کے رشتہ داروں نے تحصیل آفس میں تحصیلدار سے اپنے پیاروں کے بارے میں پوچھاتو انتظامیہ نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لا علمی کا اظہار کیا۔ جہل جھاؤ میں شیر دل نامی شخص کے گھر پر فوج نے یلغار کرکے ان کے تین مہمانوں کو اغوا کرکے لے گئے جو تاحال لاپتہ ہیں۔


