گوادر: (ہمگام نیوز) بلوچستان کے علاقے  گوادر  پسنی سے تعلق رکھنے والے لسبیلہ یونیورسٹی کے گریجویٹ طالبعلم حسیب بلوچ کے جبری طور پر لاپتہ

اہل خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق حسیب بلوچ ولد واحد کو 4 فروری 2026 کو پسنی سے مبینہ طور پر فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حسیب بلوچ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں اور ان کا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مطابق تاحال کسی سرکاری ادارے کی جانب سے نہ تو ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی موجودگی سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

خاندان نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حسیب بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ نوجوان کے بارے میں جلد از جلد معلومات فراہم کی جائیں۔