یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںپنجاب کے میڈیکل کالجوں میں بلوچستان کے طلباء کے “گُڈوِل” کوٹہ نشستوں...

پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں بلوچستان کے طلباء کے “گُڈوِل” کوٹہ نشستوں کی پالیسی میں تبدیلی تعلیم کے اصولوں کے منافی ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد

اسلام آباد (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل (اسلام آباد) کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ طلبہ بے شمار مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے میں مختلف مصائب کا شکار ہیں۔ چاہے وہ بولان میڈیکل کالج کو ترقی کے نام پر کئی ماہ تک بند رکھنا ہو یا رواں ماہ (دسمبر) میں مکران میڈیکل کالج کی انتظامیہ کا طلباء کے ساتھ بلاجواز سلوک ہو، یا ڈویژنل سطح پر بلوچ طلبہ کی “گُڈوِل” نشستوں کا موجودہ سنگین مسئلہ ہو یہ سب طلبہ کو تعلیم سے دور کرنے کا منظم طریقہ کار ہے۔

یو ایچ ایس (یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز) لاہور کا یہ فیصلہ طلبہ کے تعلیمی کیریئر پر قدغن لگانے کے مترادف ہے، جس سے نہ صرف طلبہ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ان کے ذہنوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ طلبہ نے بے پناہ لگن کے ساتھ 2024 میں اسی امید کے ساتھ انٹری ٹیسٹ پاس کیے تاکہ وہ دیگر صوبوں کے معیاری میڈیکل اداروں میں علم کی پیاس بجھائیں، لیکن یو ایچ ایس نے نہ صرف انہیں ایک سال انتظار کروایا بلکہ اوپن میرٹ پالیسی متعارف کرا کر ان کے لیے تعلیمی اداروں کے دروازے بند کرنے جیسا عمل کیا۔

اس سنگین مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے جب طلبہ نے بولان میڈیکل کالج میں اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنے کا اظہار کیا تو کالج انتظامیہ نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کر دیا۔ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار حکومتِ بلوچستان اور یو ایچ ایس لاہور کی دائرہ کار میں ہے؛ اگر وہ پیشرفت کریں تو پھر اس مسئلے کو مثبت انداز میں حل کیا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ بے حس حکومتِ بلوچستان اور یو ایچ ایس انتظامیہ نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا ہوا ہے، جو طلبہ کے قیمتی سال کو ضائع کرنے کے ساتھ انہیں تعلیم سے بدظن کرنے کے مترادف ہے۔

والدین اپنے بچوں کو علم و فہم کی زیور سے آراستہ کرنے کے لیے اپنی جمع پونجی اور بنیادی ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ تعلیم حاصل کر کے ان کا سہارا بنیں، مگر حکومت اور انتظامیہ کی اس طرح کی ناانصافیاں نہ صرف طلبہ اور تعلیم کے درمیان طویل فاصلے پیدا کرتی ہیں بلکہ والدین کے ذہن میں بھی تعلیم کی منفی تصویر تشکیل دیتی ہیں۔

آخر میں ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں پہلے سے وسیع پیمانے پر تعلیم کی کمی ہے اور طلبہ کے لیے ایسے چند ہی مواقع میسر ہیں جن سے وہ میڈیکل اور دیگر شعبہ جات میں علم کے فروغ سے وابستہ ہو سکیں۔ حکومتِ بلوچستان اور یو ایچ ایس لاہور انتظامیہ کی ڈویژنل کوٹہ نشستوں کی پالیسی میں تبدیلی دانستہ طور پر طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ دونوں صوبائی حکومتیں اور یو ایچ ایس انتظامیہ ہوش کے ناخن لیں اور بلوچ طلبہ کی حق تلفی سے اجتناب کریں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ انتظامیہ مسئلے کا سختی سے نوٹس لے اور اسے سنجیدگی سے حل کرے تاکہ طلبہ تعلیم سے وابستہ ہو کر روشن مستقبل کا ضامن بن سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز