پہرہ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقہ پہرہ بازار کے قریب سادہ لباس میں ملبوس ایرانی قابض اہلکاروں نے بغیر عدالتی حکم کے ایک بلوچ شہری کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے تین دن گزرنے کے باوجود اہلخانہ سے رابطہ نہیں اور انھیں بھی اس کی حالت اور مقامِ کے بارے میں معلومات نہیں دیئے جارہے ہیں ، جس کی وجہ سےاہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
گرفتار ہونے والے شہری کی شناخت 24 سالہ یوسف صلاحزهی ولد عزتالله ساکن گاؤں ابتر، ضلع پہره کے طور پر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یوسف کو بازار سے سیکیورٹی اہلکاروں نے بغیر کسی الزام یا حکمِ عدالت کے تشدد کرکے گرفتار کیا اور زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ اسی دوران اس کا چچا زاد بھائی، جو وہاں موجود تھا اور یوسف کی مدد کی کوشش کر رہا تھا، اسے بھی تشدد کا نشانہ بنا کر حراست میں لیا گیا، تاہم چند گھنٹوں بعد دھمکیوں کے ساتھ رہا کر دیا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اہلکاروں نے دونوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور ان کے موبائل فون بھی ضبط کر کے چیک کیے۔
یوسف کی کوئی مجرمانہ سابقہ تاریخ نہیں ہے اور گرفتاری کے تین دن بعد بھی اسے اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔
قابض ایرانی اہلکاروں کی جانب سے بغیر عدالتی حکم گرفتاری، تشدد اور جبری منتقلی، نہ صرف ایران کے آئین کی دفعات ۲۲، ۳۲ اور ۳۹ کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانونی قیدیوں کے ضابطہ اخلاق کی شق ۵۰ اور اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے حقوقِ بشر کی شق ۵ کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے، جو گرفتار شدگان کے خاندان سے رابطے کے حق کی ضمانت دیتی ہیں۔


