پہرہ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان، رپورٹ کے مطابق 4 اگست 2025 کو پہرہ میں ایک بلوچ نوجوان کو مسلح چوروں نے چاقو کے وار سے قتل کر دیا۔ مقتول نوجوان صرف اپنا موبائل فون بچانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ڈاکوؤں نے اس پر حملہ کر دیا۔ گلے کی شریان کٹنے کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
مقتول کی شناخت 16 سالہ عبدالاحد مارندگانی ولد سہراب سکنہ پہرہ(ایرانشہر ) کے علاقے ایرندگان کی گاؤں مارندگان سے ہوا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس المناک واقعے کے بعد مقامی حکام کی لاپرواہی اور بےحسی نے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا اس وقت کیا جب پہرہ کے میڈیکل لیگل ادارے (پزشکی قانونی) کے سربراہ، ڈاکٹر عبدالرحمن رسولیزاده، نے صبح 11 بجے دفتر چھوڑ دیا اور محض “دفتر کے اوقات کار ختم ہونے” کا بہانہ بنا کر عبدالاحد کی لاش کی حوال گی میں تاخیر کی، جس کے باعث متاثرہ خاندان کو مزید اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ برہم ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق، اس دردناک سانحے کے بعد نہ تو ضلعی انتظامیہ، نہ پولیس، نہ ہی بلدیاتی یا صوبائی نمائندے متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے پہنچے۔ ان سب کی غیر حاضری اور خاموشی نے عوام کے غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مزید یہ کہ علاقے میں بجلی کی بدترین صورتحال کے باعث عبدالاحد کی تدفین میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں، جو کہ مقامی نظام کی بدانتظامی اور حکام کی سنگین غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عبدالاحد محض ایک ڈکیتی کا شکار نہیں تھا، بلکہ وہ اس مظلوم بلوچ قوم کا فرد تھا جو طویل عرصے سے بلوچستان غلامی کی وجہ سے بدامنی، امتیازی سلوک، غربت اور حکومتی ظلم کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کی بےحسی نہ صرف یہ درشاتہ ہے کہ بلوچستان ایک مقبوضہ ریاست ہے
بلکہ یہ مظلوم بلوچوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ سال 2024 کے دوران کم از کم 469 بلوچ شہری نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کا نشانہ بنے، جن میں سے 284 افراد جاں بحق اور 185 زخمی ہوئے۔ ان میں کم از کم 47 خواتین اور بچے شامل ہیں، جن میں 17 بچے قتل، 14 زخمی اور 9 خواتین قتل جبکہ 7 خواتین زخمی ہوئیں۔


