چابہار (ہمگام نیوز رپورٹ) مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر چابہار میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے ایک بلوچ شہری کی 35 روز گزرنے کے باوجود عدم رہائی اور مبینہ تشدد کی اطلاعات پر اہلخانہ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار شہری کی شناخت علم عزیزی ولد غلام رسول کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق عزیز آباد، قصر قند سے بتایا جاتا ہے اور وہ چابہار میں مقیم تھے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ یکم فروری 2026 کو ایرانی سیکیورٹی فورسز نے چابہار میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر بغیر کسی عدالتی وارنٹ کے انہیں حراست میں لے لیا۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد کئی روز تک اہلخانہ کو ان کی حالت اور مقام حراست کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں اطلاع دی گئی کہ انہیں چابہار سے زاہدان منتقل کردیا گیا ہے، تاہم اب تک ان کے خلاف عائد الزامات، قانونی حیثیت اور جسمانی حالت کے بارے میں حکام کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اہلخانہ کے مطابق علم عزیزی کو حراستی مرکز میں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے باعث ان کی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ خاندان نے انسانی حقوق کے اداروں سے فوری نوٹس لینے اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔


