شال (ہمگام نیوز) بی وائی سی کے ترجمان نے کہا گِشکورے کے علاقے میں ڈاکٹر ظریف بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر ظریف، جو ایک طبی ڈسپنسر اور محمد یعقوب کے صاحبزادے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14 جنوری 2025 کو شام تقریباً 5 بجے مسلح افراد نے ڈاکٹر ظریف کو ریئکچائی میں واقع ان کے میڈیکل اسٹور سے اغوا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اغواکار ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار تھے اور دن دہاڑے اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا کے چند گھنٹوں بعد شام 7 بجے کے قریب ڈاکٹر ظریف بلوچ کو قتل کر دیا گیا۔
بی وائی سی نے اس واقعے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں ڈاکٹر، طلبہ، اساتذہ اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے عوام میں خوف اور نفسیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔


