نصیر آباد ( ہمگام نیوز ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہےکہ جلال الدین بلوچ، عمر 30 سال، ولد دین محمد، جو پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور تھے، کو مسلح اور نقاب پوش موٹرسائیکل سواروں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ حملہ آوروں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ ایک سروس اسٹیشن پر گاڑی صاف کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

ترجمان نے کہاکہ مقامی رہائشیوں کے مطابق، جلال الدین کے دو بھائیوں کو اس سے قبل سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔ دِلجان چند روز بعد رہا ہو گیا تھا، جبکہ ان کے دوسرے بھائی، کمال، اب تک جبری گمشدہ ہیں اور ان کی حالت یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

مزید کہا ہے کہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان تھے، جو بلوچستان بھر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ گروہ فورسز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جس سے علاقے میں خوف اور جبر کا ایسا ماحول قائم ہو گیا ہے جس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا اور بلوچ شہریوں کو خاموش کرانا ہے۔

ترجمان نے آخر میں کہا ہےکہ جلال الدین کے قتل سے بلوچستان میں جاری ریاستی تشدد کے اُس تسلسل کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں شہری جبری گمشدگی، تشدد اور ٹارگٹ کلنگ جیسے جرائم کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ذمہ دار عناصر کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔