لاہور (ہمگام نیوز ڈیسک ) نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو اب سے کچھ دیر قبل گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ حافظ سعید لاہور سے گوجرانوالہ جار ہے تھے۔ انسدادِ دہشت گردی (CTD) فورس نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ سعید لاہور سے گوجرانوالہ جا رہے تھے کہ راستے میں سی ٹی ڈی نے ان کو حراست میں لے لیا۔حافظ سعید کی گرفتاری کی ان کے خاندانی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے۔
ماہِ رواں میں حافظ سعید نے اپنے خلاف درج مقدمات پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
حافظ سعید سمیت 7 درخواست گزاروں نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں وفاق، پنجاب حکومت اور ریجنل ہیڈ کوارٹرز سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا تھا۔یکم جولائی کو حکومت نے حافظ سعید اور ان کے دیگر 6 ساتھیوں کے خلاف لشکر طیبہ کا سربراہ ہونے اور دہشت گردی میں ملوث کے الزامات میں مقدمات درج کیے تھے۔ ان پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات عائد ہیں۔ جس کے بعد گذشتہ ہفتے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے اپنے خلاف درج دہشت گردی کے مقدمات پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ان پر درج کی جانے والی ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا بقول ان کے کہ حافظ سعید کا لشکر طیبہ، القاعدہ یا ایسی کسی تنظیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ریاست کے خلاف اقدامات میں ہرگز ملوث نہیں ہیں۔ انڈیا کی طرف سے حافظ سعید پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا بیان حقائق کے منافی ہے۔ فاضل عدالت ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات خارج کرنے کا حکم دے۔ تاہم آج انہیں سی ٹی ڈی پنجاب نے انھیں بظاہر گرفتار کر لیا۔تاہم بعض دفعہ تجزیہ کار اس بات پر شک کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ایسی گرفتاری کو حفاظتی تحویل میں لینے کی عمل قرار دی ہیں۔


