یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںکراچی ،جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 21ویں روز میں داخل

کراچی ،جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 21ویں روز میں داخل

کراچی ( ہمگام نیوز ) کراچی سے جبری لاپتہ ہونے والے نوجوانوں زاہد علی بلوچ اور سرفراز بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ کراچی پریس کلب کے باہر 21 ویں روز بھی جاری رہا۔ مظاہرین نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ان کے پیاروں کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

اسی طرح لاپتہ زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو 17 جولائی 2025 کو کراچی کے علاقے گولیمار سے سیکیورٹی اداروں کے اہلکار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک زاہد علی بلوچ اور سرفراز بلوچ کو بازیاب نہیں کرا لیا جاتا۔
خیال رہے کہ زاہد بلوچ کا تعلق کلری لیاری سے ہے جبکہ سرفراز بلوچ ماری پور سنگھور پاڑہ کے رہائشی ہیں۔

دوسری جانب لاپتہ سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے کو 26 فروری 2025 کو برانی ہسپتال کے باہر سے سادہ لباس میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا کیا ، ان کے مطابق سرفراز بلوچ اپنے بیمار ماموں کی تیمارداری کے لیے ہسپتال آئے تھے اور کھانا لینے کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ چند افراد نے انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر لاپتہ کردیا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود سرفراز کا کوئی سراغ نہیں ملا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز