شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںکراچی بلوچ آبادی والے علاقوں میں آپریشن اور چھاپے مارنا معمول بنتا...

کراچی بلوچ آبادی والے علاقوں میں آپریشن اور چھاپے مارنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ بی وائی سی

کراچی (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی زون کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر چھاہے رات کی تاریکی ہو یا دن کا اُجالا، بلوچ آبادی والے علاقوں میں آپریشن اور چھاپے مارنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا، گھر والوں سے بدتمیزی کرنا، خواتین پر ہاتھ اٹھانا، نازیبا الفاظ استعمال کرنا، دورانِ چھاپہ گھروں کی الماریاں کھنگالنا، گھروں کو نقصان پہنچانا اور شہریوں کی ذاتی معلومات اکٹھی کرنا عام بات ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہاہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ لوگوں سے عجیب و غریب سوالات کیے جاتے ہیں اور اُن پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ کسی ایسے جرم کا اعتراف کریں جس میں وہ ملوث نہیں ہوتے۔ ایک اور تشویشناک عمل یہ شروع کیا گیا ہے کہ اگر کوئی نوجوان اپنے گھر سے روزمرہ کا سامان لینے باہر جائے تو اُس کا بائیو میٹرک کیا جاتا ہے، اور اگر اُس کے خلاف کوئی پرانی ایف آئی آر موجود ہو تو اُسے ایک دہشت گرد کی طرح سلوک کرتے ہوئے تھانے منتقل کر دیا جاتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہاہے کہ بعض اوقات وہ فرد عدالت میں پیش ہو چکا ہوتا ہے، اُس کا مقدمہ زیرِ سماعت ہوتا ہے یا عدالت اُس کیس کو ختم کر چکی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پولیس یا رینجرز کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ پرانی ایف آئی آر کی بنیاد پر نوجوانوں پر دوبارہ الزامات عائد کر کے مختلف دفعات کے تحت گرفتار کریں؟

انھوں نے آخر میں کہاہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست پاکستان خوف کا ماحول پیدا کر کے اپنے شہریوں کے دلوں میں ہراس قائم کرنا چاہتی ہے، تاکہ ایک عام انسان اپنی معمول کی زندگی سے محروم ہو کر مسلسل خوف اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا رہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز