کراچی ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ لاپتہ طالبعلم زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر جاری احتجاجی کیمپ اتوار کو چھٹے روز میں داخل ہوگیا۔
زاہد علی کے والد عبد الحمید بلوچ، جو جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں، اور والدہ جو طویل عرصے سے صحت کے مسائل کا شکار ہیں، سخت دھوپ میں بغیر ٹینٹ کے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔
عبد الحمید بلوچ کا کہنا ہے کہ زاہد دن رات محنت مزدوری کر کے نہ صرف گھر کا خرچہ پورا کرتا تھا بلکہ والدین کے علاج معالجے کی ذمہ داری بھی اس کے نازک کندھوں پر تھی۔
انہوں نے کہا کہ “اس شدید گرمی میں ہم اس امید پر بیٹھے ہیں کہ شاید ریاستی اداروں کو ہمارے حال پر رحم آئے اور ہمارا بیٹا بازیاب کردیا جائے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر شہری کو آزادانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن ریاست نے ہم سے یہ حق چھین لیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، اعلیٰ عدلیہ، میڈیا اور تمام انسان دوست حلقوں سے اپیل کی کہ وہ زاہد علی بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔
خیال رہے کہ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ سراپا احتجاج ہیں۔


