شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںکوئٹہ میں آرمی اور انٹیلیجنس اداروں کے افسران کی رکشوں میں سرمایہ...

کوئٹہ میں آرمی اور انٹیلیجنس اداروں کے افسران کی رکشوں میں سرمایہ کاری کی باعث 13 ہزار غیر رجسٹرڈ رکشوں کا انکشاف

کوئٹہ(ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 13 ہزار غیر رجسٹرڈر رکشوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس بات کا انکشاف از خود سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ٹریفک سعید گل آفریدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں غیر رجسٹرڈ رکشوں کی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جن کی پشت پناہی بڑی قوتیں کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں غیر رجسٹرڈ شدہ رکشے اکثر و بشتر فوجی افسران، انٹیلیجنس اہلکاروں، ٹریفک پولیس افسران اور دیگر پنجابی و سندھی افسران کے ہیں۔ جن کو بزور قوت بغیر رجسٹریشن کروائیے کوئٹہ شہر اور گردونواح میں چلانے کی آزادی ملی ہے کیونکہ ان کی پشت پناہی از خود پولیس اور آرمی افسران کر رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ نہ صرف رکشے بلکہ بلوچستان کے اکثر و بیشتر بڑے کاروباری مراکز، لینڈ مافیا و دیگر سرمایہ کاری ان ہی اداروں کی آشیرباد سے کام کر رہے ہیں جن سے افسران کے لیے ایک مخصوص پرسنٹ مختص کیا گیا ہے۔ باز جگہ یہ خود قبضہ کرکے یا بزور شمشیر غرب عوام کو لوٹ کر، بلیک میل کرکے ان کے کارو بار غصب کر لیتے ہیں جو عام عوام کے لیے انتہائی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

یاد رہے اس سے قبل بھی ایسے انکشافات ہوتے رہے ہیں کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے خاندانوں سے فوجی اور انٹیلیجنس اداروں کے افسران نے رقم کی مانگ کی ہے پھر أن کو بلک میل کرکے أن کے اغواء شدہ عزیز کو عقوبت خانوں سے رہائی یا سزا نہ دینے کی پاداش میں ان سے بار بار، باری رقم بٹوری گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز