شال (ہمگام نیوز) آج کی جدید دنیا جہاں علم کے نئے افق چھو رہی ہے، وہاں بلوچستان تعلیمی پسماندگی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے۔ ‘اکنامک سروے 2024-25’ کی حالیہ رپورٹ ایک تلخ حقیقت پیش کرتی ہے، جس کے مطابق بلوچستان میں شرحِ خواندگی محض 40.01 فیصد ہے، جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 36.8 فیصد تک محدود ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم کی فراہمی میں دانستہ ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
24 جنوری کا دن اس یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے کہ بلوچستان میں بند اسکول اور نوجوانوں کی اسکول و کالجز سے دوری سمیت پورا تعلیمی نظام کرپشن اور اقربا پروری جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ یہاں تعلیم کو نہ صرف بدعنوانی کی نذر کیا گیا ہے بلکہ تعلیمی ڈھانچے کو جبر کے دوام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمارے لیے یہ دن محض ایک جشن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ بلوچستان میں تعلیم ایک خواب بن چکی ہے، جو ‘ایجوکیشن ایمرجنسی’ جیسے نام نہاد نعروں کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔
ایک طرف حکومت کی جانب سے ‘کوئی اسکول بند نہیں’ اور ‘کوئی بچہ اسکول سے باہر نہیں’ جیسے دعوے کیے جاتے ہیں، تو دوسری طرف زمینی حقائق ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ کوئٹہ جیسے دارالحکومت میں بھی تعلیم کی ابتر صورتحال اس حکومتی تضاد کو واضح کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیم ایک بنیادی انسانی حق ہے، کوئی لاٹری نہیں جسے چھینا یا بدلا جا سکے۔
آج کے دن ہم نہ صرف ان بچوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں جو اسکولوں سے محروم ہیں، بلکہ ان تمام طلبہ کی جدوجہد کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے نامساعد حالات اور سہولیات کے فقدان کے باوجود تعلیم حاصل کی اور آج اپنی نسلوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اس دن اس عزم کو دہراتی ہے کہ ہم طلبہ کے حقوق اور حصولِ تعلیم کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد واضح ہے: “جدوجہد علم و اتحاد کے لئے”


