جرمنی (ہمگام نیوز) کردستان فریڈم پارٹی (PAK) کی یورپی ڈیلیگیشن نے یورپی پارلیمنٹ کی صدر محترمہ روبرٹا میٹسولا کے اس جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ فیصلے کو سراہا ہے، جس کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام سفارتکاروں اور نمائندوں کے یورپی پارلیمنٹ کی عمارتوں میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

پارٹی کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ انسانی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کی جانب ایک اہم اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ یہ اقدام ایران میں برسوں سے جاری جبر، تشدد، پھانسیوں، بنیادی حقوق کی پامالی اور مظلوم اقوام کے خلاف منظم امتیازی پالیسیوں کا واضح جواب ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یورپی پارلیمنٹ نے اس فیصلے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تشدد، قبضے اور جرائم پر قائم ایک نظام کو مزید قانونی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں۔

بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ایسے وقت میں جب ایران کی بہادر اقوام، بالخصوص کرد قوم، آزادی، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کے لیے بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں، یورپی پارلیمنٹ جیسے اداروں کے یہ اقدامات مظلوموں کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کردستان فریڈم پارٹی (PAK) نے امید ظاہر کی کہ یہ قدم پورے یورپ اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں ایک متحد اور فیصلہ کن پالیسی کی بنیاد بنے گا، جس کے تحت ایران کی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بند کیا جائے گا اور اس “مجرم و قابض نظام” کے نمائندوں کو یورپ سے نکالا جائے گا، تاکہ ایران کے زیرِ تسلط اقوام پر جاری جبر اور قبضے کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ظالم نظاموں کے خلاف کھڑا ہونا صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ کردستان فریڈم پارٹی نے یورپی پارلیمنٹ کے اس واضح اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے انصاف اور آزادی کے راستے میں ایک مؤثر قدم قرار دیا۔