لندن(ھمگام نیوز) تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر آج لندن میں آئی وی بی ایم پی (IVBMP) کے زیرِ اہتمام ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور بلوچ عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے عالمی ضمیر کو بیدار کرنا تھا۔
احتجاج میں شریک افراد نے پاکستان اور ایران میں بلوچ عوام کو درپیش مسائل، جبری گمشدگیوں، ماورائے قانون اقدامات اور انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے خلاف پُرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کیے۔ مظاہرین نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی تمام زیرِ حراست قیادت اور کارکنان کی فوری اور غیر مشروط رہائی، تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی، غیر جانبدارانہ تحقیقات، اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دی جانے والی عمر قید کی سزاؤں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور انہیں انصاف، شفاف قانونی تقاضوں اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے ان فیصلوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کا تحفظ کسی ایک ملک یا قوم کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں، ماورائے قانون اقدامات اور اختلافِ رائے کو دبانے کے الزامات جیسے معاملات عالمی برادری کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں، کیونکہ خاموشی ایسے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
شرکاء نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، یورپی اداروں اور تمام جمہوری حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، حقائق کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں اپنا فعال کردار ادا کریں، اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی کوششیں تیز کریں۔
احتجاج کے شرکاء میں مصطفی بلوچ، سرجاو بلوچ، منصور بلوچ، فیض بلوچ سمیت دیگر بلوچ کارکنان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تمام شرکا نے اتفاق کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ انصاف، انسانی وقار، آزادیٔ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرنا انصاف کے عالمی تصور کو کمزور کرتا ہے، لہٰذا بلوچستان کے عوام کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق اور اپنی قومی جائز حق آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی پوری ذمہ داری اور عزم کے ساتھ جاری رہے گا۔














