نیویارک (ہمگام نیوز) ایران کی اسرائیل و امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے سائے میں آبنائے ہرمز میں مال بردار بحری جہازوں کو پیش آنے والے حادثات میں اضافے کے ساتھ ہی، امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحری گزرگاہ ایک خطرناک علاقے میں تبدیل ہو رہی ہے۔
امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کے مطابق پینٹاگان کے حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جس کی چوڑائی اپنے تنگ ترین مقام پر 21 میل سے زیادہ نہیں ہے، جہازوں کے گزرنے کی صورت میں ایک خطرناک زون بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “ایرانی فائرنگ کے خطرات ختم ہونے تک اس تنگ گزرگاہ میں جنگی جہاز بھیجنا انتہائی خطرناک ہے”۔
امریکی بحریہ کے ایک عہدے دار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جہازوں نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی تو آبنائے ہرمز ایرانی “Kill Box” میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جہاز رانی کی کئی کمپنیوں کا خیال ہے کہ اس آبنائے سے بحری ٹریفک کی واپسی میں طویل وقت لگے گا۔ کمپنیوں نے اشارہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی جلد بحالی کی توقع نہیں کر رہی ہیں۔
اس تناظر میں قدرتی گیس (ایل این جی) منتقل کرنے والی یونانی کمپنی “Capital Clean Energy Carriers” کے سی ای او جیری کالوجيراٹوس نے کہا ہے کہ “اس میں وقت لگے گا، کیونکہ ہمیں نہ صرف دشمنی کے خاتمے کی ضرورت ہے، بلکہ جہازوں کے مالکان کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ جہاز پر موجود افراد اور خود جہازوں کو لاحق خطرات واقعی کم ہو گئے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا “یہ سب تحفظ کے احساس سے جڑا ہے اور ہم ابھی اس سے بہت دور ہیں”۔
عسکری اور بحری شعبوں کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس آبنائے میں ٹریفک کی مکمل واپسی کے لیے لڑائی کا خاتمہ واحد شرط ہے، جہاں جنگ سے پہلے روزانہ 100 سے زیادہ جہاز گزرتے تھے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر امریکہ مال بردار جہازوں کی حفاظت شروع کر بھی دے، تب بھی جہاز رانی اور تیل کی کمپنیاں ایرانی حملوں کے مسلسل خطرے کی وجہ سے اپنے جہاز بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں گی۔
اس حوالے سےLloyd’s List Intelligence کی سینئر تجزیہ کار بریجٹ ڈیاکون کہتی ہیں کہ “کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ جب تک حملے جاری ہیں اور جنگ برپا ہے، وہ سکیورٹی مرافقت (ایسکارٹ) کے باوجود خطرہ مول نہیں لیں گے”۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو ایک انتخابی تقریب کے دوران اعلان کیا تھا کہ “امریکی بحریہ وقت آنے پر ضرورت پڑنے پر آبنائے سے ٹینکروں کی حفاظت کرے گی”۔ ٹرمپ نے کل تجارتی جہازوں کو آبنائے استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی تھی۔ تاہم، امریکی بحریہ کے حکام نے بعد میں واضح کیا کہ انہیں اس بارے میں کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے اور یہ کہ “اس وقت یہ مشن انجام دینا تجارتی اور امریکی جہازوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہوگا”۔
واضح رہے کہ ایران نے طویل مدتی معاشی دھچکا پہنچانے کے ارادے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تہران میں فوجی مرکز “خاتم الانبیاء” کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے گزشتہ بدھ کو امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ تیل کی قیمت علاقائی سکیورٹی پر منحصر ہے جس کا استحکام آپ نے تباہ کر دیا ہے”۔ دوسری جانب روئٹرز کے مطابق باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے اس بحری گزرگاہ میں تقریباً 12 بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔















