“جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو چھوٹی چیزوں کے ساۓ بھی طویل ہوجاتے ہیں اسی طرح زوال پزیر معاشروں میں بعض افکار اور شخصیات کے ساۓ اور قدوقامت بڑھ جاتے ہیں “
آزادی غلامی سے انکار کا نام ہے ، اور آقاؤں کی طاقت کو پاش پاش کرنے کا عمل ہے ، جونہی کسی بھی غلام انسان میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ “میں غلام ہوں “ یہی احساس آزادی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے ، اس شعوری سفر میں اس انسان کی شخصیت بیک وقت تخریب وتعمیر کے مراحل سے گزرتی ہے ،جب کوئ فرد آزادی کا انتخاب کرتا ہے وہ دراصل اسی لمحے اپنے وجود کا خود خالق بننے لگتا ہے گویا اب وہ اپنی ذات کو نئے سرے سے خود تخلیق کررہا ہوتا ہے ، اس عمل میں اس کا ارادہ، شعوراورعمل شامل ہوتے ہیں۔
ان مراحل میں وہ اپنی ذہن و فکر کو نوآبادیاتی طرز فکر کے ہر حربے اور آلودگی سے نہ صرف بچاتا ہے بلکہ استعمار کے خول کو توڑ کر اسے بھی حاکمیت کی قید سے دستبردار کرکے آزادی دلارہا ہوتا ہے ، اس دوطرفہ عمل میں سب سے بھاری ذمہ داری سیاسی قیادت اور ادیب پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ کیسے اپنی قوم کو ان بلاؤں و آقاؤں سے دور رکھیں کہ جن کے سایے بھی قومی شعور کو زہر آلود نہ کرسکیں۔
لیکن یہاں بدقستی یا اس سے بڑھ کر قومی المیہ یہ ہے کہ قومی مزاحمت پہ آقاؤں کا دیو قامت سایہ اس قدر چھایا ہواہے کہ ہماری قومی مزاحمت میں تخلیق ذات کا عنصر کم جبکہ ان سایوں میں پرورش کا رجحان زیادہ نظر آتا ہے ، اس سے بڑھ کر ہماری نالائقی و بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے کہ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم آقاؤں کے زہنیت سے سوچنے لگے ہیں ،، ٹک ٹاک یا ہجوم شور غوغاء کی حد تک ہماری سیاسی چہروں کا جوش جذبہ قابل دید ہے مگر سوال اپنی جگہ برقرار ہے جو بار بار سر اٹھاتی ہے کہ
” کیا قومی آزادی جیسے عظیم نصب العین کے جدو جہد کے معیار کو اتنا سطحی و بے معنی بناکر قومی آزادی حاصل کی جاسکتی ہے ؟ “
آج کسی بھی محاذ پہ چاہے وہ سیاسی ہو یا عسکری – سیاسی قد کاٹھ کے حامل قیادت نظر نہیں آتی جس میں تاریخی شخصیات نیلسن منڈیلا ، میلکم ایکس ، ماؤ سے لے کر باباھیر بگش مری تک کا ایک ادنی سی جھلک دکھائ دے سکے ، آزادی کے لیے ہماری قربانیاں اپنی جگہ لیکن ہمارے اذہان پہ استعمار کی گرفت کا المیہ ہماری قربانیوں سے بڑھ کر ہے ، ہماری وجود و ازہان پہ آقاؤں کے دیو قامت سایے اس طرح چھائے ہوۓ ہیں کہ اب ہمارے ہر عمل میں ان کا عکس نظر آنے لگا ہے ، یہ سوالات اسی عکس کی بدولت اٹھ رہے ہیں کہ
ہمارے سیاسی فیصلے کہاں سے وارد ہورے ہیں ؟
کیا ممکنہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز ان فیصلوں پہ متفق ہیں ؟
کیا ہم بھی آقاؤں کی طرح قومی مفادات کے برعکس فقط اپنے لیے سیاسی گملوں میں لیڈر تیار تو نہیں کررہے ؟ جن میں غباروں کی طرح صرف ہوا بھری جاتی ہے
کیا ہم بھی آقاؤں کی طرح طاقت و شہرت کے خمار میں مبتلا نظر نہیں آتے؟
کیا ہم بھی آقاؤں کی طرح ہیروازم کا تو شکار نہیں ہوۓ اور پوری قوم کو اس جذباتی و سطحی کیفیت میں مبتلا کرکے ٹرک کی بتی کے پیچھے تو نہیں لگائ ہے؟
کیا ہم بھی اپنے آقاؤں کی طرح خود کو عقل کُل سمجھتے ہیں ؟
کیا ہم بھی اپنے آقاؤں کی طرح سیاسی تنقید کو برداشت نہیں میں کرسکتے؟
کیا ہم بھی اپنے آقاؤں کی طرح کسی بھی مخلص کو سننے کی حوصلہ نہیں رکھتے؟
کیا ہم بھی آقاؤں کی طرح اپنے زمین زادوں کو قربانیوں کی بھینٹ چڑھا کر خود کو سراہے جانے میں مصروف تو نہیں؟
سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ کیا ہم بھی آقاؤں کی فوج کی طرح کسی حد تک پراکسی بننے کے سفر پہ گامزن تو نہیں ہوچکے ؟
فرانز فینن نے کہا تھا کہ دیہات میں سیاسی شعور شہروں سے بڑھ کرہوتا ہے اس لیے ، یہ سوالات تعلیم یافتہ لوگوں میں نہیں ابھرے نہ ہی یہ سوالات سیاسی قیادت و ادیبوں کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں بلکہ یہ سوالات دیہاتوں کے زمینوں سے لاوا کی طرح ذہنوں میں اُبل رہے ہیں ، لہذا اب دو صورتیں بچتی ہیں یا تو ہمیں ان سوالات کا سامنا کرنا ہوگا یا پھر آقا کی طرح ان سروں کا قلع قمع کرنا ہوگا جن زہنوں میں یہ سوالات ابھر رہے ہیں۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ ایک میدان میں آقاؤں کے سایے ہم پہ نہیں پڑے اور ہم آقاؤں کی نقل نہ کرسکیں جس پہ ہمیں داد ملنی چاہیے، وہ میدان “ڈسپلن و ریکروٹمنٹ “ ہے ، اس میدان میں ہم نے وہی کیا جو ایک غلام قوم کرسکتی ہے عددی برتری کی خاطر ہم نے ہتھیار ان ہاتھوں میں بھی تھما کر ان کو سڑکوں پہ لاکھڑا کردیے جنہیں جذباتی ماحول سے نکال کر ایک فکری ماحول میں پروان چڑھنا تھا اور رہی بات ڈسپلن کی وہ تو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ،اس کے برعکس ہمارے آقا اپنے آقاؤں کی “ ڈسپلن اور ریکروٹمنٹ” کی نقل کرکے ہم پر زوال ساۓ لمبے کرتے جارہے ہیں ، لیکن صد حیف اس میدان کے علاوہ ہم باقی تمام میدانوں میں آقا کی نقل کرکے اپنے ہی خون کی قربانی سے انہی سایوں میں ایک اور آقا کی صورت پل رہے ہیں اور افسوس ہمیں نہ اس کا شعور ہے نہ سُدھ۔
یقینا جب زوال کے ساۓ طویل ہوجاتے ہیں تو حقیقی جہدکار و حقیقی سیاسی قیادت پس پردہ چلی جاتی ہے ، اور یوں زوال کے سایے اور طویل ہوجاتے ہیں لیکن کب تک ؟ آخر کب تک ۔۔۔۔؟؟ نہ قلم کو ہم راستہ دینگے


