لندن (ہمگام نیوز) 7 فروری 2026 کو فیض بلوچ نے فری بلوچستان موومنٹ (FBM) کی نمائندگی کرتے ہوئے اہواز عوامی جمہوری محاذAhwaz People’s Democratic Fromt (APDF) کے 36ویں یوم تاسیس سالانہ کانفرنس میں اپنے خطاب میں ایرانی ریاست کے زیر قبضہ غیر فارسی قوموں کی یکجہتی اور آزادی کی جدوجہد پر زور دیا۔ اس کانفرنس میں مختلف اقوام کے نمائندے اور غیرجانبدار سیاسی مبصرین ایرانی حکومت کے جابرانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے یکجا ہوئے تھے۔
اپنے خطاب میں فیض بلوچ نے اہواز کے عرب عوام کے ساتھ ساتھ دوسرے مظلوم قوموں نمائندوں کے مابین شراکت کار اور انکے درمیان باہمی یکجہتی و ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع انصاف، خود مختاری اور آزادی کے لیے ہمارے عزم کی ایک علامت ہے۔ انہوں واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اہواز کا مسئلہ بلوچستان کے مسئلے سے الگ نہیں ہے، اور آزادی کی جدوجہد نسلی، قومی اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔
فیض بلوچ نے کہا، “ہم ایک اہم موقع پر اکٹھے ہوئے ہیں، ایک ایسا لمحہ جس میں اتحاد، مقصد کی وضاحت اور انصاف کے لیے ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ ایرانی ریاست کے زیر قبضہ غیر فارسی اقوام، چاہے وہ بلوچ ہوں، عرب ہوں، کرد ہوں یا آذربائیجانی ہوں، دہائیوں سے قبضے کی جبر، سیاسی پسماندگی، ثقافتی دباؤ اور اقتصادی استحصال کا سامنا کر رہی ہیں۔ باوجود اس کے کہ ہم پر جبر، قید اور تشدد کے سائے ہیں، ہماری قومیں آزادی کے حصول کے لیے اپنے عزم میں پختہ ہیں۔”
فیض بلوچ نے کہا کہ فری بلوچستان موومنٹ اہواز کے عرب عوام کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، “بلوچستان کے لوگ اپنے عرب بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے: آزادی، خودمختاری اور اپنے وطن پر حق حاکمیت۔”
انہوں نے بلوچستان، اہواز، کردستان اور آذربائیجان کے درمیان مشترکہ جدوجہد پر روشنی ڈالی اور کہا، “اہواز سے بلوچستان، کردستان سے آذربائیجان تک، ہم ایک ہی قبضہ گیریت اور استبدادی نظام کا سامنا کر رہے ہیں جو ہماری شناخت کو مٹانے، ہمارے وسائل کو لوٹنے اور ہماری ابھرتی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔”
فیض بلوچ نے یہ بھی کہا کہ آزاد بلوچستان تحریک کا اہواز کے ساتھ اظہار یکجہتی صرف سیاسی حمایت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ثقافتی اور انسانی حقوق کے محاذ پر بھی مکمل تعاون پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا، “مزاحمت کا ہر ایک عمل، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہمیں آزادی کے قریب لے کر جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “ایک مظلوم قوم کی آزادی، دوسری قوموں کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ ہر مزاحمتی عمل ہمیں آزادی کے قریب لے جاتا ہے۔” انہوں نے غیر فارسی قوموں کے درمیان تعاون اور اسٹرٹیجک اتحاد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا وژن ایک ایسا مستقبل ہے جہاں احترام، مساوات اور آزاد اور خودمختار قوموں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ہو۔
بین الاقوامی برادری سے خطاب کرتے ہوئے فیض بلوچ نے کہا، “ہماری قوموں کی جدوجہد جائز ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ظلم کے سامنے خاموشی دراصل غیر جانبداری نہیں بلکہ اس میں شریک ہونا ہے۔ ہم جمہوری حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری جائز درخواستوں کو تسلیم کریں اور تاریخ کے درست طرف کھڑے ہوں۔”
اختتام پر فیض بلوچ نے کہا، “تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کوئی بھی قابض طاقت ایک ایسی قوم کو مستقل طور پر دباؤ میں نہیں ڈال سکتی جو آزادی کی خواہاں ہو۔ دہائیوں کے دکھ اور قربانیوں کے باوجود ہمارا عزم کبھی کمزور نہیں ہوا۔ ہم غیر فارسی قوموں کے طور پر یکجا ہو کر، ایک مشترکہ جدوجہد کے تحت اپنے راستے پر چلیں گے یہاں تک کہ تمام علاقوں کو آزادی، عزت اور خودمختاری ملے۔”
کانفرنس کے دوران بحث کا مرکزی نقطہ غیر فارسی قوموں کے درمیان اتحاد کو مزید مستحکم کرنے اور ایرانی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر آگاہی بڑھانے پر تھا۔
فری بلوچستان موومنٹ کا پیغام واضح تھا، صرف اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی ایران کے زیر قبضہ مظلوم قومیں غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہو کر انصاف، عزت اور خودمختاری کے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکتی ہیں۔
کانفرنس میں سوڈانی، عرب، ترک، بلوچ، کُرد نمائندوں کے علاوہ بین الاقوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی اور ایران کے زیر قبضہ اقوام کی تاریخی جدوجہد کی حمایت کی۔


