یروشلم: اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج نے سیاسی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے اتحادی نشستوں کے لحاظ سے آگے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں مخالف اتحاد بھی حکومت سازی کی دوڑ میں موجود ہے۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج میں کوئی بھی فریق پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرتا نظر نہیں آرہا، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہم ہوں گے۔

خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، ووٹوں کی گنتی کے دوران نتائج میں تبدیلی کا امکان موجود ہے اور حتمی انتخابی نتائج سامنے آنے تک کسی بھی اتحاد کی کامیابی کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے درمیان مقابلہ

اسرائیلی انتخابات میں ایک طرف بن یامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے مذہبی و قوم پرست اتحادی ہیں، جبکہ دوسری جانب سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں یاشار جماعت اور دیگر اپوزیشن جماعتیں موجود ہیں۔

ابتدائی انتخابی اعدادوشمار کے مطابق، نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ تاہم، کسی جماعت کے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں بھی ہے۔

رائٹرز کے مطابق، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں کے لیے پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ کون سا سیاسی اتحاد حکومت سازی کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔

پارلیمان میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں درکار

اسرائیل کی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، مجموعی طور پر 120 نشستوں پر مشتمل ہے۔ حکومت بنانے کے لیے کسی ایک جماعت یا اتحادی گروپ کو کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

الجزیرہ کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، بدھ کی صبح تک 57 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے دوران نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو تقریباً 56 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا، جبکہ آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد تقریباً 49 نشستوں پر دکھائی دے رہا تھا۔ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 16 نشستیں ملنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا۔

یہ اعدادوشمار ابتدائی گنتی پر مبنی ہیں، حتمی نتائج نہیں۔ دونوں بڑے اتحاد اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے پیچھے دکھائی دے رہے تھے۔

کون جیتا اور کون ہارا؟

ابتدائی نتائج کی بنیاد پر انتخابی مقابلے کی صورتِ حال کو تین اہم نکات میں سمجھا جاسکتا ہے۔

1۔ لیکوڈ اور نیتن یاہو: لیکوڈ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور نیتن یاہو کا اتحاد بھی نشستوں کے اعتبار سے آگے ہے۔ تاہم، مطلوبہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں انہیں حکومت برقرار رکھنے کے لیے مزید جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

2۔ گادی آئزنکوٹ اور اپوزیشن: اپوزیشن کو موجودہ حکومت کے خلاف عوامی حمایت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے، لیکن اس کے لیے بھی مختلف جماعتوں کو ایک مشترکہ حکومت پر متفق کرنا ضروری ہوگا۔ آئزنکوٹ نے انتخابی نتائج کے بعد سیاسی تبدیلی اور قومی اتحاد کی بات کی ہے۔

3۔ عرب جماعتیں: عرب سیاسی جماعتیں حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگر دونوں بڑے اتحاد اکثریت سے محروم رہتے ہیں تو عرب جماعتوں کی حمایت، پارلیمانی حمایت یا کسی ممکنہ سیاسی معاہدے کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔

اس مرحلے پر نیتن یاہو کی حتمی شکست یا آئزنکوٹ کی کامیابی کا اعلان کرنا درست نہیں ہوگا۔ اصل فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سا رہنما 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

حکومت کیسے بنے گی؟

اسرائیل میں وزیرِاعظم کا انتخاب براہِ راست عوامی ووٹ سے نہیں ہوتا، بلکہ عوام پارلیمانی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل کئی مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔

پہلا مرحلہ: حتمی نتائج کا اعلان

مرکزی انتخابی کمیٹی ووٹوں کی گنتی مکمل کرکے جماعتوں کی نشستوں کا تعین کرے گی۔ فوجی اہلکاروں اور بیرونِ ملک ووٹ ڈالنے والے اہل ووٹروں کے بعض بیلٹ بھی حتمی گنتی میں شامل کیے جانے ہیں۔

دوسرا مرحلہ: صدر کی مشاورت

نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد وہ اس امیدوار کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دے سکتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے قابل ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ ہی حکومت بنانے کا موقع حاصل کرے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ امیدوار کتنی جماعتوں کی حمایت حاصل کرسکتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: اتحادی مذاکرات

حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتیں وزارتوں، پالیسیوں، فوجی خدمات، مذہبی معاملات اور قومی سلامتی جیسے موضوعات پر مذاکرات کریں گی۔ اگر کوئی امیدوار 61 ارکان کی حمایت حاصل کرلیتا ہے تو وہ اپنی حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: ناکامی کی صورت میں متبادل

اگر نامزد امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی بھی فریق حکومت تشکیل نہ دے سکے تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ اس دوران موجودہ حکومت نگراں حیثیت میں کام جاری رکھے گی۔

رائٹرز کے مطابق، نامزد امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کے لیے 42 دن تک کی مہلت مل سکتی ہے۔

عرب جماعتیں حکومت سازی میں اہم کیوں ہیں؟

اس انتخاب کے بعد عرب جماعتوں کی پارلیمانی حیثیت خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اگر نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے اتحاد مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکے تو عرب جماعتوں کی حمایت کسی ایک فریق کے لیے پارلیمانی اکثریت تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرسکتی ہے۔

تاہم، اس امکان کے سامنے سیاسی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ نیتن یاہو نے انتخابی خطاب میں کہا ہے کہ ایسی حکومت قائم نہیں ہونی چاہیے جو عرب جماعتوں پر انحصار کرے۔ دوسری جانب، مرکزی یہودی اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما بھی عرب جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحادی حکومت بنانے کے معاملے میں تحفظات رکھتے ہیں۔

اس لیے عرب جماعتوں کو ملنے والی ممکنہ نشستیں خودبخود کسی ایک اتحاد کی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتیں۔ ان کا کردار جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور سیاسی سمجھوتوں پر منحصر ہوگا۔

انتخابات کے اہم مسائل

اسرائیلی انتخابات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ملک 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے، غزہ میں جنگ، لبنان اور ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی اور داخلی سیاسی اختلافات کے اثرات سے گزر رہا ہے۔

انتخابی مہم میں قومی سلامتی، جنگی پالیسی، فوجی خدمات سے متعلق مذہبی رعایتوں اور 7 اکتوبر کے حملے سے قبل اور اس کے دوران سکیورٹی ناکامیوں کی جواب دہی جیسے معاملات اہم رہے۔

نیتن یاہو نے اپنے انتخابی خطاب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو اپنی حکومت کی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا اور ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے برعکس آئزنکوٹ نے سیاسی تبدیلی اور قومی اتحاد پر زور دیا۔

انتخابات کے نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کہ نئی حکومت کی تشکیل اسرائیل کی آئندہ علاقائی پالیسی، ایران کے بارے میں حکمتِ عملی اور فلسطینی مسئلے سے متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

کیا نیتن یاہو دوبارہ وزیرِاعظم بن سکتے ہیں؟

ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو اب بھی حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر نہیں ہوئے۔ اگر وہ اپنی جماعت اور اتحادیوں کے علاوہ دیگر پارلیمانی گروپوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب، اگر آئزنکوٹ مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک مشترکہ اتحاد میں جمع کرکے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو نئی حکومت کی قیادت ان کے ہاتھ میں آسکتی ہے۔

تیسرا امکان یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کے باعث کوئی بھی رہنما اکثریت حاصل نہ کرسکے اور ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑے۔

ان تینوں امکانات میں سے کسی ایک کو حتمی قرار دینے کے لیے ابھی مکمل انتخابی نتائج اور اتحادی مذاکرات کا انتظار ضروری ہے۔

اسرائیلی انتخابات میں فی الحال کسی ایک فریق کی واضح کامیابی سامنے نہیں آئی۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت اور ان کا اتحاد نشستوں کے لحاظ سے آگے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ گادی آئزنکوٹ کی اپوزیشن بھی حکومت سازی کی کوشش کرسکتی ہے، جبکہ عرب جماعتوں کی پارلیمانی حیثیت اس پورے عمل میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

حتمی فیصلہ ووٹوں کی مکمل گنتی، صدر کی مشاورت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ہی سامنے آئے

گا۔ اس وقت اسرائیل میں انتخابی مقابلہ ختم ہونے کے باوجود حکومت سازی کی سیاسی کشمکش جاری ہے۔