زاہدان/تہران (ہمگام نیوز) آمدہ اطلاعات کے مطابق، ہفتہ 10 اکتوبر 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں فوجی اور سکیورٹی فورسز اور مسلح تنظیم ’’جبهہ مبارزین مردمی‘‘ کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے بعد ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اداروں کی توجہ اس صورت حال پر مرکوز ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان پر مشتمل دو اعلیٰ سطحی وفود اور وزارت داخلہ کا ایک نمائندہ وفد بلوچستان میں ہونے والی جھڑپوں کا جائزہ لینے کے لیے بلوچستان پہنچا۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں سکیورٹی اور فوجی اداروں کے درمیان متعدد اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
حالیہ جھڑپوں پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ میڈیا ادارے نور نیوز نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں بلوچستان کی بگڑتی ہوئی شورش زدہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ ادارہ ملک کے اعلیٰ انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل ہونے والی اہم سکیورٹی خبروں کی اشاعت کرتا ہے۔
نور نیوز نے اپنی رپورٹ میں نام نہاد ’’معتبر انٹیلی جنس ذرائع‘‘ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کے طور پر 50 ہزار سے زائد افراد منظم ہیں، جن میں سے تقریباً 1,500 افراد کو ایران کے اندر بھیجا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایران کو درپیش جنگی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے بلوچستان میں جاری سکیورٹی واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ نور نیوز نے خبردار کیا ہے کہ معاملہ اب صرف سرحدی علاقے میں چند مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ملک کی سکیورٹی، معیشت اور سماجی ڈھانچے کی صلاحیتوں کو بیک وقت کمزور کرنے کا مسئلہ بن چکا ہے۔
نور نیوز نے بلوچستان میں جاری جھڑپوں کو ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ایک کثیرالجہتی حکمت عملی کی کڑی قرار دیا ہے۔ اس میڈیا ادارے نے کسی قسم کے شواہد پیش کیے بغیر خلیجی ممالک میں سے ایک ملک پر بھی ان جھڑپوں کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بلوچستان میں جاری جھڑپوں میں بیرونی عناصر کی مداخلت کے الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مسلح تنظیم ’’جبهہ مبارزین مردمی‘‘ اپنے مقصد کو بلوچ عوام کے وقار کی بحالی اور اس کے تحفظ سے تعبیر کرتی ہے۔
تنظیم نے 1 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی ولایتِ فقیہ پر مبنی حکومت ملک کے حساس حالات میں عوام کے قریب آنے اور ان کے دکھ درد سننے کے بجائے اپنے غرور کی خاطر جبر اور تشدد کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جبکہ وہ ان لوگوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے انصاف اور اپنے حقوق کے حصول کو اپنا نعرہ بنایا ہے۔
بلوچستان میں جاری مسلح جھڑپوں نے بلوچ شہریوں اور ایرانی حکومتی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پیدا کردی ہے۔
نوٹ: نور نیوز کی جانب سے مسلح افراد کی تعداد، ایران میں ان کی مبینہ آمد اور کسی خلیجی ملک کی مداخلت سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں ف
راہم نہیں کی گئی۔


