یروشلم (ہمگام نیوز) اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑا فوجی حملہ شروع کر دیا ہے، جسے اسرائیلی حکام نے “پیشگی دفاعی کارروائی” قرار دیا ہے۔ اس حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے اہم فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس حملے کے بعد اسرائیل میں بھی سائرن بجائے گئے اور حفاظتی اقدامات کے تحت اسکول، دفاتر اور فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔

امریکی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ تھی، جس میں ایران کی قیادت اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر نے اس کارروائی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام کے خطرے کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

ایران نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کی طرف میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب، اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کئی ممالک نے حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ کچھ ممالک نے ایران اور اسرائیل کے لیے فضائی پروازیں معطل کر دی ہیں تاکہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے، اور عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔