Homeخبریںاسلام آباد سے صحافیوں کو کوئٹہ بلاکر بلوچستان پر یکطرفہ ریاستی بیانیہ...

اسلام آباد سے صحافیوں کو کوئٹہ بلاکر بلوچستان پر یکطرفہ ریاستی بیانیہ مسلط کیا جارہا ہے۔ رفیع اللہ کاکڑ

کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی و تجزیہ نگار رفیع اللہ کاکڑ نے کوئٹہ میں پاکستانی عسکری حکام کی جانب سے اسلام آباد اور پنجاب کے صحافیوں کے حالیہ دورے پر جاری بحث کے حوالے سے کہا ہے کہ سرکاری بریفنگز میں شرکت کرنا صحافیوں کے لیے قابل اعتراض نہیں، تاہم بلوچستان کے معاملے میں مین اسٹریم میڈیا کے وسیع تر رویے پر سوال اٹھائے جانے چاہئیں۔

رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ مین اسٹریم میڈیا بلوچستان کے معاملے پر سرکاری مؤقف کو اکثر تنقید یا آزادانہ تصدیق کے بغیر پیش کرتا ہے اور ریاست کی جانب سے منظور شدہ تجزیہ کاروں پر انحصار کرتے ہوئے مقامی بلوچ آوازوں کو نظرانداز کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ریاستی مؤقف ضرور سننا چاہیے، تاہم صحافت کا تقاضا ہے کہ ریاست کی فراہم کردہ معلومات سے آگے آزاد ذرائع سے بھی معلومات حاصل اور ان کی تصدیق کی جائے، اگر پابندیوں کے باعث ایسا ممکن نہیں تو صحافیوں کو ان حدود کا اعتراف کرنا چاہیے، نہ کہ تنقید کرنے والوں کو لیکچر دیا جائے۔

رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ اگر کسی بحث میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک بھی تنقیدی آواز کو جگہ نہیں دی جاتی اور صرف ریاستی طور پر منظور شدہ مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے تو اس طرح ریاستی بیانیے کو بحث کی سمت متعین کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں متنازع انتخابات، گھروں اور باغات کی تباہی، تجارت میں رکاوٹ، ریاستی سرپرستی میں مسلح گروہوں کی تشکیل اور جبری گمشدگیوں جیسے واقعات سامنے آئے، تاہم مین اسٹریم میڈیا ان معاملات پر خاموش رہتا ہے اور ان کی نشاندہی پر ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کوئٹہ میں شرکت کرنے والے صحافیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ کہ اگر تنقیدی آوازوں کو جگہ نہیں دی جاسکتی تو یکطرفہ ریاستی بیانیے کو پھیلانے سے بھی گریز کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز