کابل (ہمگام نیوز) پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ہفتہ کی شب جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر (پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خرسان) کے سات دہشت گرد مراکز اور ٹھکانوں کو نہایت درست اور ہدفی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق یہ جوابی کارروائیاں اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے مہلک دھماکے، بنوں اور باجوڑ میں الگ الگ دھماکوں اور حملوں، اور ہفتے کے روز بنوں میں ہونے والے ایک اور حملے کے ردعمل میں کی گئیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ حملے افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسندوں نے منصوبہ بندی کر کے کیے۔

دوسری جانب افغانستان کے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے پکتیکا کے برمل اور ارگون جبکہ ننگرہار کے غنی خیل، بہسود اور خوگیانی میں بمباری کی۔ اطلاعات کے مطابق برمل میں ایک مذہبی مدرسہ بھی نشانہ بنا۔

تاحال ان حملوں میں افغان میڈیا کا کہنا ہے 21 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

پاکستانی حکومت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں قائم طالبان حکومت نے پاکستان پر حملہ آور مسلح گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے۔ طالبان اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے اندر ہونے والے حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔