کوالا لمپور، (ہمگام نیوز)امریکہ اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ اقتصادی حکام نے اتوار کے روز ایک نئے تجارتی معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پُرامید ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر نے آسیان سمٹ کے موقع پر چینی نائب وزیراعظم ہی لیفینگ اور سینئر مذاکرات کار لی چنگ گانگ سے ملاقات کی۔ یہ فریقین کے درمیان مئی کے بعد سے اب تک ہونے والے پانچویں دور کی بالمشافہ بات چیت تھی۔
بیسنٹ کے مطابق، معاہدے کے مجوزہ خاکے کے تحت چین کی جانب سے نایاب ارضی معدنیات اور میگنیٹس کی برآمد پر عائد نئی پابندیوں میں تاخیر اور امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف سے اجتناب کیا جائے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان گفتگو میں زرعی تجارت، سویا بین کی خریداری، تجارتی توازن، اور فینٹانائل کے بحران پر بھی بات ہوئی۔
چینی مذاکرات کار لی چنگ گانگ نے تصدیق کی کہ دونوں فریقین ایک “ابتدائی اتفاقِ رائے” تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “امریکی موقف سخت رہا ہے، تاہم مذاکرات تعمیری انداز میں ہوئے ہیں۔”
صدر ٹرمپ ان دنوں ایشیا کے پانچ روزہ دورے پر ہیں اور 30 اکتوبر کو جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک اپنی تجارتی جنگ میں شدت سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یکم نومبر سے چینی مصنوعات پر 100 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جو چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدی پابندیوں کے ردعمل میں تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان رواں برس مئی میں طے پانے والی تجارتی جنگ بندی 10 نومبر کو ختم ہونے والی ہے، تاہم امکان ہے کہ اس میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔
گفت و شنید میں فینٹانائل، ٹک ٹاک، امریکی بندرگاہوں کی فیس، اور نایاب معدنیات کے علاوہ روس-یوکرین تنازع پر چین کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ اور شی کے درمیان ملاقات کی تصدیق کر دی ہے، تاہم بیجنگ کی جانب سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔














