واشنگٹن: (ہمگام نیوز ) ایران میں جاری جنگ آج ہفتے کے روز آٹھویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس تنازع کے خاتمے کے وقت اور طریقے سے متعلق بے یقینی کی صورتحال دوبارہ پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی فوج نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر نشانہ بنائے گئے ہزاروں اہداف کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

ہفتے کے روز ایران پر شدید بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، جبکہ اسرائیلی فوج نے نئے ایرانی میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے۔ اسی اثنا میں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنی کارروائیوں کی تصاویر نشر کی ہیں اور اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے ہفتے کے دوران 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تہران کے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے علاوہ کچھ بھی قبول نہیں کریں گے، جبکہ اسرائیل، ایران اور لبنان کے درمیان نئے حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر یہ بیانات گذشتہ روز جمعہ کو ایرانی صدر کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بعض ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سے ایک ہفتے قبل شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے بعد سفارتی حل کے معمولی سے امکانات پیدا ہوئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے علاوہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد، جب ایک (یا کئی) عظیم اور مقبول لیڈر کا انتخاب ہو جائے گا، تو ہم اور ہمارے کئی شاندار اور بہادر اتحادی و شراکت دار ایران کو تباہی کے دہانے سے بچانے اور اسے معاشی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے۔”

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے اہداف کی متضاد وضاحتیں پیش کی ہیں، جس سے خطے میں تنازع کے پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ یہ تنازع پہلے ہی ایران کی سرحدوں سے تجاوز کر چکا ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے اسرائیل کے علاوہ ان خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

دریں اثنا اسرائیل نے لبنان میں جنگ کا دائرہ وسیع کرنا جاری رکھا ہوا ہے اور گذشتہ روز جمعہ کو بیروت پر بمباری کی۔ اس سے قبل پورے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) کو خالی کرنے کی غیر معمولی وارننگ دی گئی تھی۔