اسلام آباد (ہمگام نیوز)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ آج انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری حازر اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پاکستانی حکام کی جانب سے عدالتی ہراسانی اور دباؤ کی مسلسل مہم میں تازہ ترین اضافہ ہے۔

بیان کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی کو آج اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ عدالت میں پیشی کے لیے جا رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے دونوں وکلاء کے خلاف غیر ضروری طاقت کا استعمال کیا جبکہ گرفتاری کے وقت کسی قسم کی وجوہات بھی فراہم نہیں کی گئیں، جس سے ان کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گرفتاری کے طریقۂ کار، قانونی تقاضوں کی عدم پاسداری اور حکام کی جانب سے انتقامی و بے بنیاد مقدمات کے ذریعے دونوں وکلاء کو خاموش کرانے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری حازر اور ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انسانی حقوق کے دفاع کے باعث ان کے خلاف قائم کیے گئے تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔