پنجشنبه, اپریل 3, 2025
Homeخبریںانڈیا مجھے اور میرے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دیں:الطاف حسین

انڈیا مجھے اور میرے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دیں:الطاف حسین

لندن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے ایک نجی انڈین ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

گزشتہ روز ریپبلک ٹی وی پر اینکر اوناب گوسوامی کو براہِ راست انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم مودی کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں کیونکہ انھوں نے ایسا کر کے ’کشمیر کی ماؤں اور بیٹیوں کو بچا لیا ہے۔ پاکستان کے زیر قبضہ جو کشمیر ہے وہاں لوگ بالکل آزاد نہیں ہیں‘۔

یاد رہے کہ حال ہی میں الطاف حسین نے اپنے ایک حالیہ تقریر میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی تھی کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دی جائے۔ الطاف حسین کا موقف ہے کہ چونکہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق انڈیا سے تھا لہذا انھیں انڈیا میں رہائش کی اجازت دی جائے۔

ادھر اکتوبر میں لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔ اس موقعے پر میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 66 سالہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ دہشتگردی کی معاونت کے الزام میں ٹریزازم ایکٹ 2006 کی سیکشن 1 (2) کے تحت درج کیا گیا تھا .انٹرویو کے دوران الطاف حسین نے پاکستانی حکومت پر متعدد الزامات بھی لگائے۔ انھوں نے پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران پر بدعنوانی کے الزامات لگائے اور کہا کہ وہ پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران انھوں نے انڈیا کا قومی نغمہ ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا’ بھی گایا۔ گزشتہ ماہ بھی ان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ یہی گانا گا رہے تھے۔یہ پہلا موقعہ نہیں جب الطاف حسین نے انڈین حکومت سے مدد کی اپیل کی ہو۔

الطاف حسین کا مارچ 2017 میں ایک اور بیان سامنے آیا، جس میں انھوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں موجود مہاجروں کی مدد کریں۔ بقول ان کے پاکستان میں مقیم مہاجر دراصل انڈین ہیں اس لیے وزیراعظم مودی کو ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ لندن میں مقیم یاد رہے الطاف حسین ٹیلیفون پر طویل دورانیے کی تقاریر کیا کرتے تھے، بعد میں جب پاکستان میں نجی نیوز چینلز کا آغاز ہوا تو یہ تقاریر نشر ہونے لگیں، نیوز چینلز کبھی کبھار تو بغیر کسی وقفے کے یہ تقاریر لائیو نشر کرتے تھے لیکن 2015 میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی تقاریر و تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مدعی کا موقف تھا کہ وہ پاکستان کی فوج اور قومی سلامتی کے خلاف بات کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز