واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کرتا ہے تو امریکہ 52 ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکہ پر جوابی حملہ کیا تو 52 ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ امریکہ 52 ایرانی سائٹوں کو “نشانہ” بنانے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا ہے ان میں سے بعض سائٹس ایران اور ایرانی ثقافت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران امریکی اہکاروں یا اثاثوں کو نشانہ بناتا ہے تو امریکہ کا حملہ تیز اور سخت ہوگا۔
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے اہداف اور ایران کو انتہائی پھرتی اور شدت سے نشانہ بنائے گا۔
امریکی صدر کا اپنے ٹوئیٹر پیغام میں مزید کہنا تھا کہ امریکہ مزید خطرہ نہین چاہتا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو باقاعدہ دھمکی دی ہے کہ ایران نے اگر کوئی بھی کارروائی کی امریکہ کے کسی مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ نے 52 ٹارگٹ سیٹ کرلیے ہیں جہاں پر کارروائی ہوگی اور بہت تیزی سے ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ڈیمیج کنٹرول کے طور پر کوئی چھوٹی موٹی کارروائی کرے گا جس کو امریکہ بھی ہضم کرلے گا۔
کیونکہ چار دن قبل ٹرمپ کے بیان کو ہلکا لیکر ایران ایک بہت بڑا نقصان کرچکا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے ایران نے 52 امریکیوں کوبھی یرغمال بنایاتھا، امریکہ مزید خطرہ نہیں چاہتا، عراق میں امریکی ٹھکانوں پر حملوں کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ (جنرل سلیمانی) نے ہمارے سفارت خانے پر حملہ کیا جبکہ دیگر مقامات پر وہ مزید حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔
اس کو ایک وارننگ سمجھیے کہ اگر ایران نے کسی امریکی یا امریکی اثاثوں پر حملہ کیا تو ہم نے 52 ایرانی مقامات کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل رمضان نے کہا تھا کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکہ کی خوشی جلد سوگ میں تبدیل کر دیں گے۔
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد عراق سے ملحق سرحد پر ایرانی لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔ امریکہ بھی مشرق وسطی میں مزید تین ہزار فوجی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان سے ملحقہ اپنی سرحد پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔
….targeted 52 Iranian sites (representing the 52 American hostages taken by Iran many years ago), some at a very high level & important to Iran & the Iranian culture, and those targets, and Iran itself, WILL BE HIT VERY FAST AND VERY HARD. The USA wants no more threats!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 4, 2020


