دوزاپ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان زاہدان حقوق انسانی کے علمبرداروں اور ماہرین تعلیم میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جب ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں محکمہ تعلیم نے ایرانی آرمی ڈے کے موقع پر پرائمری اسکولوں میں فوجی نمائشوں کا انعقاد کیا گیا ہے ۔
بلوچ ایکٹوسٹ کمپین کے مطابق، چابہار کے ایک پرائمری اسکول میں ہلکے ہتھیاروں، دستی بموں، مارٹروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی نمائش کی گئی، جس سے ننھے بچوں کو جنگ اور تشدد کی علامتوں سے متعارف کرایا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے دن کو منانے کے اس متنازع اقدام کو تعلیمی ماحول میں عسکریت پسندی کے فروغ کے طور پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ کم عمری میں اس قسم کی فوجی نمائشیں بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہیں اور ان کی فطری نشوونما میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ مہم کے ایک رکن نے کہا، “یہ تعلیم نہیں، تربیت ہے۔ امن، تخلیقی صلاحیتوں اور سیکھنے کے بجائے اسکولوں کو تشدد کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔”
اس اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ طفل کے آرٹیکل 29، جس پر ایران دستخط کنندہ ہے، کے مطابق تعلیم کا مقصد بچوں کی شخصیت کی مکمل نشوونما اور انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں کا احترام سکھانا ہے۔ تعلیم کو ایک پرامن اور محفوظ ماحول میں دیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اسکولوں کو بچوں کی فکری و تخلیقی نشوونما اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے مراکز ہونا چاہیے، نہ کہ فوجی نظریے کی ترویج کا ذریعہ۔
بلوچستان کا مغربی حصہ، جو پہلے ہی شدید تعلیمی پسماندگی، ساختی امتیاز اور معاشی محرومی کا شکار ہے، اس اقدام سے مزید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
حقوقِ انسانی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت، بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے بجائے انہیں خوف، تشدد اور عسکریت پسندی کی فضا میں جھونک رہی ہے۔
بلوچ ایکٹوسٹ کمپین نے اقوام متحدہ، یونیسف، اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں بچوں کے حقوق کی صورتحال پر آزادانہ تحقیقات کا فوری آغاز کریں۔
مہم کے ایک ترجمان نے خبردار کیا، “نسلی اقلیتوں کے علاقوں میں پرائمری تعلیم کو عسکری رنگ دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ خطرناک بھی ہے۔ یہ بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور عالمی تعلیمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کی خاموشی اس عمل پر رضامندی سمجھی جائے گی۔ ایرانی حکومت پر فوری دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس عمل کو بند کریں اور تعلیمی پالیسی کو امن، شمولیت اور بچوں کی فلاح و بہبود کی طرف موڑ سکیں


