تہران (ہمگام نیوز) قابض ایرانی ریاست نے مقبوضہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چار بلوچ شہریوں کو سزائے موت سنا دی ہے، جسے بلوچ قوم کے خلاف ریاستی جبر اور سیاسی انتقام کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
کرد و ایرانی سیاسی قیدیوں کی ویب سائٹ کے مطابق جن افراد کو سزا دی گئی ان کے نام عیدو شبخش، عبدالحسینی شبخش، عبد الرحیم قنبرزاہی اور سلیمان شبخش ہیں۔ ان پر تہران کی انقلابی عدالت کی شاخ 28 نے “ریاست کے خلاف گروہ سازی” اور “بغاوت” جیسے الزامات عائد کیے، جنہیں انسانی حقوق کے کارکن سیاسی بنیادوں پر عائد کیے گئے جھوٹے مقدمات قرار دیتے ہیں۔
قابض ایرانی ریاست کی جانب سے بلوچ عوام کے خلاف ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اور اب سزائے موت جیسے اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کی سیاسی شناخت اور قومی حقوق کو بزور طاقت دبایا جا رہا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی رکن اور ایران سے تعلقات کی کمیٹی کی سربراہ ہنّا نیومان نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت سیزفائر کے پردے میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بلوچستان ایک تاریخی قومی سرزمین ہے، جو اس وقت ایران اور پاکستان جیسے ریاستی اداروں کے قبضے میں ہے۔ ان دونوں ریاستوں کی جانب سے بلوچ قوم کے سیاسی، ثقافتی اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
بلوچ قوم کی جدوجہد ایک آزاد، سیکولر، جمہوری اور انسانی حقوق پر مبنی ریاست کے قیام کے لیے ہے، جو خطے میں پائیدار امن، استحکام اور انصاف کی ضامن ہو سکتی ہے۔















