زاھدان (ہمگام نیوز) رپورٹ کے مطابق، 30 سے زائد بین الاقوامی انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران میں گرفتار انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی انتہائی تشویشناک اور خطرناک صورتحال پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مشترکہ بیان اتحاد “نرگس آزاد” کی کاوش سے جاری کیا گیا ہے، جس پر فرَنٹ لائن ڈیفینڈرز، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز، پین امریکہ، بلوچ ایکٹوسٹ کیمپین سمیت متعدد عالمی اداروں کے دستخط موجود ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں ملک گیر احتجاجات کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت اور وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ بندش نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بشمول تشدد، جبری گمشدگیوں اور حتیٰ کہ حراستی مراکز میں ماورائے عدالت قتل کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دستخط کنندہ تنظیموں نے مستند رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ احتجاجات کے دوران ہزاروں مظاہرین ہلاک، بڑی تعداد میں شہری زخمی جبکہ بے شمار انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی شخصیات کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق، مواصلاتی ذرائع کی بندش اور آزاد میڈیا کی عدم موجودگی نے نگرانی اور جوابدہی کے عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔
تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ زیرِ حراست انسانی حقوق کے محافظ، صحافی، ادیب اور فنکار، خاص طور پر وہ افراد جو تنہائی کی کوٹھڑیوں میں رکھے گئے ہیں، فوری خطرے سے دوچار ہیں۔
بیان میں ایرانی عدالتی حکام کے ان بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے جن میں مظاہرین پر “محاربہ” جیسے سنگین الزامات عائد کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انسانی حقوق تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے الزامات کے نتیجے میں سزائے موت سمیت سخت ترین سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔
آخر میں، ان تنظیموں نے پُرامن سرگرمیوں کے باعث گرفتار تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، جن میں مکمل انٹرنیٹ بحالی، قیدیوں کو وکیل اور اہلِ خانہ تک رسائی، اور مظاہرین کے قتل و کریک ڈاؤن کی آزاد اور شفاف تحقیقات شامل ہیں۔
دستخط کنندگان نے ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر کسی بھی قسم کی تاخیر مزید قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔


