مسقط/تہران(ہمگام نیوز ) آبنائے ہرمز میں عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر کو میزائل حملوں کا نشانہ بنائے جانے اور جہاز میں آگ لگنے کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم تاحال کسی معتبر سرکاری ادارے نے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر سرگرم ایک اکاؤنٹ کی جانب سے سامنے آیا، جس نے رات کے وقت سمندر میں آگ یا دھماکے جیسی روشنی دکھائی دینے والی ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔ بعد میں بعض دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی اس خبر کو آگے بڑھایا۔
غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے جنوبی علاقے سِریک سے متعدد اینٹی شپ کروز میزائل داغے گئے، جنہوں نے عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق میزائل حملے کے بعد ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ جہاز کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ابھی تک متاثرہ آئل ٹینکر کا نام، جھنڈا، ملکیت، اس میں موجود تیل کی مقدار، عملے کی تعداد یا کسی ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں بھی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے، امریکی سینٹرل کمانڈ، ایرانی سرکاری میڈیا یا بڑے عالمی خبر رساں اداروں کی جانب سے اس مخصوص واقعے کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی وجہ سے اس خبر کو فی الحال ایک غیر مصدقہ دعوے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں رپورٹ ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور ایران و عمان کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق نئے بحری انتظامات پر مذاکرات جاری ہیں۔


