جمعه, اپریل 4, 2025
Homeخبریںایران کوعراق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی:امریکہ

ایران کوعراق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی:امریکہ

واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق منگل کے روز عراق کے شہر بغداد میں ہزاروں مظاہرین اور ملیشیا کے جنگجوؤں نے امریکی سفارتخانے کے باہر جمع ہو کر پرتشدد احتجاج کیا اور مظاہرین سفارت خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔
عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی پشت پناہی کا الزام ایران پر عائد کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس اقدام کے ردعمل میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

سال نو کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس حملے میں ہونے والے کسی بھی جانی اور مالی نقصان کی ’بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔، یہ وارننگ نہیں دھمکی ہے‘دوسری جانب امریکہ کے وزیر دفاع مارک اسپر نے اعلان کیا ہے کہ عراق کے جس علاقے میں سفارت خانے پر حملہ ہوا ہے وہاں فوری طور پر 750 سپاہیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ امریکہ اپنی عوام کے مفادات کا دنیا میں ہر جگہ تحفظ کرے گا۔

بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے کے بعد امریکی صدر نے اپنے ردعمل میں اس واقع کا الزام ایران پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس ’حملے میں ایران کا ہاتھ ہے‘ اور یہ کہ اسے ’پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘

جب مظاہرین نے سفارت خانے کی بیرونی دیوار عبور کی تو اندر تعینات امریکی فوجیوں نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس کے علاوہ ایک گارڈ ٹاور کو بھی بظاہر نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے ایک امریکی کانٹریکٹر کو ہلاک کیا اور کئی کو زخمی۔ ہم نے بھرپور جواب دیا اور ہمیشہ دیں گے۔ اب عراق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ اسے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عراق اپنی فورسز کے ذریعے سفارتخانے کی حفاظت کرے گا۔‘مظاہرین اتوار کو عراق اور شام کی سرحد کے قریب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

امریکی افواج نے یہ حملہ ایک عراقی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے ردِعمل میں کیا تھا۔جس میں 25 جنگجو ہلاک اور 55 زخمی ہوئے تھے۔اس کے علاوہ مظاہرین نے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی، پانی کی بوتلیں سفارتخانے پر ماریں، اور باہر لگے سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے دیواروں اور کھڑکیوں پر کتائب حزب اللہ کی حمایت میں وال چاکنگ بھی کی۔ان حملوں کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان عراق میں پراکسی جنگ کا خطرہ مزید واضح ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز