یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںایف اے ٹی ایف کے اجلاس"پاکستان کو 'گرے لسٹ' سے 'بلیک لسٹ'...

ایف اے ٹی ایف کے اجلاس”پاکستان کو ‘گرے لسٹ’ سے ‘بلیک لسٹ’ میں ڈالنے کی تجویز

آرلینڈو ( ہمگام نیوز ڈیسک ) ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک کا اجلاس 16 سے 21 جون تک امریکہ کے شہر آرلینڈو میں ہو رہا ہے۔یہ اجلاس پاکستان کے لیے کافی اہم ہے، کیونکہ اس میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو ‘گرے لسٹ’ سے ‘بلیک لسٹ’ میں ڈالنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اب تک مؤثر قانون سازی نہیں کی، جس پر اسے بلیک لسٹ کیا جائے۔وزارتِ خزانہ کے ایک اہلکار نےکہا کہ بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی تجویز کو مسترد کرانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے حق میں تین سے چار ارکان ووٹ دیں۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان کو ‘گرے لسٹ’ سے نکالنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ کم سے کم 15 ممالک پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔

ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک کی تعداد 36 ہے اور امریکہ، چین، برطانیہ، ترکی اور بھارت اس کے نمایاں ارکان ہیں۔امریکہ کی صدارت میں ہونے والا ٹاسک فورس کا یہ آخری اجلاس ہے جس کے بعد اس کی صدارت چین کو مل جائے گی۔

یاد رہے  2018ء میں پاکستان کو ‘ایف اے ٹی ایف’ کی گرے لسٹ میں ڈالنے کے بعد بین الاقوامی ادارے نے انسدادِ منی لانڈنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کو 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان دیا تھا، جس کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔پاکستان کو ان نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر ستمبر 2019ء تک مکمل عمل کرنا ہے۔

پاکستان ‘ایف اے ٹی ایف’ کا رکن نہیں ہے۔ لیکن وہ اس کے ذیلی ‘ایشیا پیسفک گروپ’ کا رکن ہے۔ حال ہی میں ‘ایشیا پیسفک گروپ’ نے پاکستان کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات سے بھی ‘ایف اے ٹی ایف’ کو آگاہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 27 میں 18 نکات پر تاحال مکمل عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز