لندن (ہمگام نیوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 16 سالہ بلوچ نوجوان محمود بلوچ رازی کو فوری طور پر رہا کرے، جسے دسمبر میں مبینہ طور پر اپنے والد پر دباؤ ڈالنے کے لیے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل ایران کے مطابق، وزارتِ انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے 7 دسمبر کو محمود بلوچ رازی کو صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر نیک شہر میں اس کے اسکول سے گرفتار کیا۔ گرفتاری کے بعد کئی دنوں تک حکام نے اس کے اہلِ خانہ کو اس کے ٹھکانے اور حالت سے لاعلم رکھا، جسے ایمنسٹی نے جبری گمشدگی قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش محمود بلوچ رازی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنے خاندان کو فون کر کے کہے کہ اگر اس کے والد نے خود کو حکام کے سامنے پیش نہ کیا تو اسے رہا نہیں کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق چند دن بعد حکام محمود کو ایک پراسیکیوٹر کے سامنے لے گئے، جہاں اس سے ایسے کاغذات پر دستخط کروائے گئے جنہیں وہ نہ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی سمجھ سکتا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ محمود بلوچ رازی کو تاحال وکیل تک رسائی نہیں دی گئی اور اسے کرمان صوبے میں واقع ایک یوتھ حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے، جو اس کے گھر سے تقریباً 800 کلومیٹر دور ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ رہائی تک محمود بلوچ رازی کو مزید تشدد یا ناروا سلوک سے تحفظ دیا جائے اور اسے فوری طور پر اپنے خاندان اور وکیل سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
ابھی تک ایمنسٹی کی سوشل میڈیا پوسٹس کے علاوہ اس کیس پر کوئی اور آزاد رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، ایران میں بلوچ اقلیت کو شدید امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ یہ اقلیت اکثریتی شیعہ ملک میں زیادہ تر سنی ہے اور غریب صوبہ سیستان و بلوچستان میں آباد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سزائے موت کو سیاسی اختلاف رکھنے والوں، مظاہرین اور نسلی اقلیتوں کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ ایمنسٹی کے مطابق بلوچ اور افغان شہریوں کی بڑی تعداد ان افراد میں شامل ہے جنہیں پھانسی دی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے گاڑیوں میں سوار افراد پر بلاجواز فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے، اور اس کا غیر متناسب اثر بلوچ اقلیت پر پڑا۔


