بارکھان ،بولان ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے بارکھان میں 22 فروری کو شروع کیا گیا فوجی آپریشن تاحال جاری ہے۔ جبکہ بولان کے مختلف علاقوں آج سے زمینی فوجی آپریشن کا آغاز کیاگیا ہے ۔
علاقائی ذرائع کے مطابق بارکھان کے مختلف مقامات پر زمینی کارروائیوں سے متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں جن میں مرڈی واہ، بغاؤ تنگ کاریڑ، گلو شم، انار اور برگ شامل ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے متعدد گھروں کو آگ لگا دی ،اور پہاڑوں میں رہنے والے چرواہوں کی پناہ گاہیں بھی جل کر خاکستر ہو گئی ہیں۔ آج بھی مختلف مقامات پر ہیلی کاپٹر وں کا گشت جاری ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی ہے، جھڑپ میں پاکستانی فورسز کے صوبیدار گل ولی سمیت کئی اہلکار زخمی و ہلاک ہوئے ہیں۔ علاقے میں فورسز کی بھاری نفری سمیت ایمبولنسز کی آمد و رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
اس طرح پاکستانی فورسز نے آج صبح سے بولان کے مختلف علاقوں کھجوری، پیر غائب، بی بی نانی اور بارڑی میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر فوجی نقل و حرکت تیز کر دی گئی ہے، جبکہ ڈرون طیاروں کی مسلسل پروازیں بھی جاری ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق فورسز کی بڑی تعداد علاقے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم کسی ممکنہ جانی نقصان یا گرفتاری کی اطلاعات تاحال موصول نہیں ہوسکے ہیں ۔


