کسی پرانے ساتھی نے پیغام کرکے پوچھا کہ 27 مارچ 1948 کا تاریخی و علمی حیثیت کیا ہے ؟ کیا بلوچ سرزمین پر پاکستان نے اسی تاریخ کو جبراَ قبضہ کیا تھا؟
میں نے اپنے فاضل دوست سے جوابا استفسار کیا کہ اس معلوم داری کی کوئی خاص وجہ؟ کیونکہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اور جس جس مستند لکھاری کی اس موضوع پر لکھی ہوئی کتاب اور مضامین پڑھی ہیں تو اس میں سوال کی گنجائش بچتی ہی نہیں ہے وہاں پہ سب واقعات و حادثات بمع تاریخ و تفصیل بڑی ہی محنت اور ورق گردانی سے جمع کیئے گئے ہیں۔
تو میرے دوست گویا ہوئے کہ سوشل میڈیا پر یہ شوشہ چھوڑا گیا ہے کہ پاکستان نے ” سارے ” بلوچ گلزمین پر جبری قبضہ نہیں کیا بلکہ کچھ تو اس میں بخوشی شامل ہوگئے تھے۔ اس تناظر میں بات کی جارہی ہے کہ یہ کوئی جبری قبضہ نہیں اور 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر قبضے کا دن کہنا مناسب نہیں اور اسے تسلیم کرنا گویا یہ ہوگا کہ اب آپ پاکستان سے محض وہ علاقے مانگ رہے ہیں کہ جو 27 مارچ کو بزور بندوق ہم سے چھینے گئے تھے اور جو (بقول) ان کے بخوشی و رضا شامل ہوگئے تھے تو پھر ہم ان کا مانگ ہی نہیں کررہے، یعنی کہ ہم 27 مارچ 1948 والی حیثیت پر جوں کا توں واپس جانے کے حق میں نہیں بلکہ وہ تمام علاقے جو بخوشی شامل ہوئے یا پھر بزور بندوق قبضہ ہوئے ہم ان سب کا کیس لڑ رہے ہیں، تو ایسے میں یہ بات اصولا غلط ہوگا کہ بلوچستان پر 27 مارچ 1948 کو قبضہ کیا گیا تھا۔
اچھا، تو اس معاملے پر کچھ لب کشائی کرنے سے پہلے کیا ہم اس پر بات کرسکتے ہیں کہ سرزمین کی حیثیت کیا ہے؟ اس پرقبضہ جمانے کی تعارف کیا ہے؟ اور بالرضا شمولیت اور بالجبر قبضے کی توضیح کیا ہے اوراس کا تعین کن شرائط پر ہوسکتی ہے؟
وہ بولے ، ہاں ضرور کیجئے۔
اگر ہم ریاستی بند و بست کے حوالے سے بات کریں تو بلوچ ریاست کی تاریخ کچھ 1666 میں جاکر شروع ہوجاتی ہے، یہ بات تو سب مانتے ہیں، (کم از کم مانتے تھے) مگر ایک بکھری ہوئی ریاست جس کا نہ اپنا کوئی خدوخال واضح تھا اور نہ ہمسایوں میں سے کسی کی جانب سے ایسے کسی خطرے کی موجودگی کا احساس تھا کہ ہلہ بول دیں گے، جنگ ہوگا اور بلوچ کو بلوچ کی ریاست سے محروم کردیا جائے گا، زرائع آمدورفت رسل و رسائل کی دشواریاں بھی آڑے آتی تھیں اور بلوچستان کا پھیلا ہوا زمینی وسعت بھی ان مجبوریوں میں اضافے کا موجب بنا، سو جیسا تھا ویسا ہی چلتا رہا، نام کی ایک ریاست تھی اور اپنے معاملات میں سب علاقے آزاد حیثیت رکھتے تھے، لیکن ریاست گوکہ برائے نام مگر اپنی ایک برائے نام وجود رکھتی ضرور تھی جسے ہم بلوچ قومی ریاست کہتے ہیں اور تاریخ اس کو بلوچ قومی ریاست مانتی بھی ہے، جیسے کہ harry de windt 1891 اپنے یاداشت a ride to india across Parsia nad Baluchistan میں لکھتے ہیں کہ
So far as I could glean, the court of Kelat has no influence whatsoever beyond a radius of twenty miles or so from that city. The provinces of Sarawan, Jhalawan, Kach-Gandava, Mekran, [D] and Las Bela, which constitute the vast tract of country known as Kalati Baluchistan, are all governed by independent chiefs, nominally viceroys of the Khan of Kelat. Practically, however, the later has little or no supremacy over them, nor indeed over any part of Baluchistan, Kelat and its suburbs excepted.
برائے نام کی ریاست ضرور تھی، کمزور تھی، نحیف و ناتواں تھی، کئی مواقعوں پر تو اپنے ہی ماتحت و متوسل دیگر قبائل و سرداروں سے پنجہ آزمائی کی نوبت آتی رہی تھی، مگر سرزمین کی حیثیت سے ہم ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ناتوانی و کمزوری کا مطلب ہر گز یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سرزمین غیر اقوام کے لئیے یا اپنوں کے لئیے بندر بانٹ کے واسطے کھلی ہے، اگر کوئی آئیگا اور آکر اپنا قبضہ جما بھی لے گا تو بھی اس سے سرزمین کی کھلی حیثیت اپنی جگہ برقرار رہیگی، ریاست قلات کی حیثیت بلوچستان کی کھلی ریاست کے حوالے سے ایک علامت کی حیثیت رکھتی ہے، بلوچستان ہی ریاست قلات تھی اور ریاست قلات بلوچستان، وہ الگ بات ہے کہ برٹش راج نے یہاں آکر اپنے قدم جمائے اور پھر سنڈیمن نے وفاداریاں خریدنے اور چاپلوسوں کو نوازنے اور ریاست کے خلاف بھڑکانے اور نئے طرز کی سرداری نظام کے زیر اثر بلوچ ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ریاست میں سے کئی قبائل و علاقوں کے تصفیہ طلب معاملات میں گھس کر برطانوی راج کو بلوچستان کے کار سرکار میں ایک باقائدہ فریق بنا دیا، اس کی اپنی ایک قلم بند تاریخ ہے، اس کے بعد پٹے یا کرایے پر لیئے ہوئے مختلف علاقوں پر مشتمل بند و بست کو بلوچستان ایجنسی بنایا گیا اور اسکے بعد بلوچ ریاست کے انہی بنیادی و اساسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مری بگٹی و کھیتران سمیت دیگر علاقوں اور کچھ افغان علاقوں کو ملا کر اسے برٹش بوچستان کا نام دیا گیا، یہ سب کچھ مزید باریکیوں کے ساتھ تاریخ میں واضح ہیں اور اس تاریخ سے نہ کوئی انکار کرسکتا ہے نہ ہی کسی کے انکار سے تاریخ پر کچھ اثر پڑنے والا ہے، یہ بات صاف ہوگئی کہ ریاست قلات ہی دوسرے لفظوں میں بلوچ کی کامل ریاست تھی، اسے انگریزوں، فارس اور بعد ازاں پنجابیوں نے نوچ ، نوچ کر مختلف اشکال و انداز میں بدلنے کی کوششیں کیئے مگر ریاست اپنی تاریخی دعوے کے ساتھ آج بھی بلوچ جہد کاروں کے لئیے وہی ہے جو آج سے 500 سال پہلے تھی، سرزمین کی حیثیت مال غنیمت کی طرح نہیں جسے لوگوں میں شریک کاروں میں بانٹ کر کھایا اور ہضم کیا جائے، سرزمین ایک قطعی حقیقت ہے اس پر بزور طاقت بڑی قوتیں بسا اوقات قابض ہوجاتے ہیں، اسکے فرزند اس کو واگزار کرلیتے ہیں، اسے گدھ نوچ کر کھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسکے سپوت اسکو پھر سے اپنی اصلی حالت میں بحال کروا دیتے ہیں، اس سرزمین کو لالچی اور کمی کمین لوگ مراعات کے عیوض بیچ دیتے ہیں مگر اسکے رکھوالے سروں کی بازی لگا کر اس مٹی کا قرض اپنے سر سے اتار پھینکتے ہیں، سو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ گردش ایام و تنگی حالات کے سبب جس ، جس دور میں تاریخ کو مسخ کرنے اور نئی تاریخ ایجاد کرنے کی کوششیں ہوئے وہ کبھی بارآور نہ رہیں، لہذا نظری یا علمی حوالے سے بلوچ سرزمیں اپنی کھلی حیثیت میں ناقابل تقسیم و ناقابل انتقال رہی ہے۔
اگر ہم سرزمین کی حیثیت کے تعین کی بات کررہے ہیں تو اس میں قبضے کی کہانی کیا ہے، زمین کی توقیر کیا ہے اور کیا یہی زمین جسے ہم قومی شناخت کے حوالے سے نہ صرف بنیادی بلکہ اہم ترین عنصر بتاتے ہیں کیا یہ زمین اپنی متعین حیثیت میں قابل انتقال و قابل تقسیم ہے، کیا کسی سردار، تمندار، سپہ سالار اعلی و میر و معتبر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے یا اپنے قبائل و خاندان کے زیر تسلط زمین کا سودا جب چاہے جیسے چاہے اور جس سے چاہے کرلے۔ زمین کو کیوں ماں کہا جاتا ہے، ماں کی عزت و ناموس پہ کوئی مصالحت نہیں کوئی سمجھوتہ نہیں، انکی حیثیت مسلم ہے ایسا کیوں ہوسکتا ہے کہ زمین کا ایک حصہ قلات ہے اور ایک حصہ ڈیرہ بگٹی اور ایک مکران ہے، سیاسی اکائی کے حساب سے زمین ایک ہی ہے اور وہ بلوچ قومی سرزمین ہے اس پر حق اختیار صرف اور محض بلوچ قوم کو ہی حاصل ہے، اور اسکی آزاد حیثیت قطعی ہے اس پر کوئی بحث و تکرار کی گنجائش نہیں، قطع نظر کہ وہ مکرانی ہو، کوہ سلیمان کا ہو، کھیتران و جھالاوان کا ہو، مانتے ہیں کہ بلوچ سرزمین کو سیاسی شناخت کی بنیادوں پر بانٹا گیا ہے جو کہ تقریبا دنیا کے سبھی قوموں اور ملکوں میں ہوتا رہا ہے، آج بھی ہم بحیثیت قوم مختلف ٹکڑوں میں زندگی گزار رہے ہیں، اگر ایسا ہوا بھی ہے تاریخ کے جھروکوں میں تو اس تاریخی حیقیت کے پیچھے منہ چپھائے اس تاریخی جبر سے کیونکر آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں، تاریخ میں رونما ہونے والے کسی ایک واقعے کو اسی واقعے کی قطعیت میں محض اس لیئے تاریخی سچ نہیں کہا اور لکھا جاسکتا کہ وہ تاریخ میں کبھی رونما ہوچکی ہے، اس رونما ہونے کی ان تمام اسباب و علل ہی اس واقعے کی حقانیت کو ثابت کرسکتے ہیں، قلات پر قبضہ ہوا، مکران و ڈیربگٹی و کوئٹہ و دیگر پر نہیں ہوا، وبالرضا شامل ہوئے، یہ بالرضا کی حقیقت کیا ہے، اس کا پس منظر کیا ہے اور تاریخ میں اس بالرضا شمولیت کی حیثیت کیا ہے، تاریخ کو بلوچ ریاست کی ابتدا سے شروع کرے تو تاریخ سے انصاف ہوگی اور اس بیچارے قوم سے بھی، کسی ریاست کے حصے بخرے کر دئیے جائیں اور پھر ان حصوں کی قسمت پر پھر بیٹھ کر گفت و شنید سے مسائل کا حل نکالنے کی بات کی جائے اور کہا جائے کہ تاریخی سچائی ریاست کی اسی بکھری ہوئی شکل سے جڑی ہے، ماضی کی تقسیم بندر و بانٹ کی تاریخ کو بھول کر کہا جائے کہ ہم نے اس کا حل نکالا اور ان حصوں کی رائے کا احترام کرکے انہیں انہی کی خواہش کے مطابق دوسرے ملکوں یا ریاستوں کو دھان کردیا، کسی جھگڑے کا حل اسی جھگڑے کی بنیادوں میں ہوگی کہ جھگڑا کس بات پر ہوا تھا، بلوچ کا جھگڑا ہی اس بات پر ہے کہ اس کی قومی ریاست کو مختلف حصوں میں بانٹا گیا، ابتدائی تاریخ وہی ہے، پاکستانی بالرضا و بالجبر کی کہانی تو بہت بعد کی ہے اور یہ اس جھگڑے میں محض ایک ضمنی جھگڑے کی حیثیت رکھتی ہے، پاکستانی قبضے کے خلاف جد و جہد میں اسی دن کو ہی یاد رکھا جائے جس دن پاکستانی فوج نے بلوچ سرزمین کے ایک حصے پر بزور شمشیر قبضہ جمایا( حصے سے مراد پاکستانی زیر تسلط بلوچ علاقے ناں کہ نام نہاد بلوچ صوبہ) اور اس میں بالرضا شمولیت کی ڈھکوسلے کی حقیقت یہی ہے کہ جن علاقوں کو بالرضا شمولیت کے عینک لگا کر دیکھنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ اسی ریاست کے عملا حصے تھے کہ جن پر 27 مارچ کو طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جمایا گیا، قبضہ چاہے ایک انچ پر ہوجائے کہ ایک فرلانگ پر یا پھر پورے گلزمین پر اسکی حیثیت ہی قبضے کی رہے گی جب تک اسکو دشمن کی چنگل سے واگزار نہ کیا جائے، اگر یہ ایک قومی جنگ ہے اور بلوچ ایک قوم ہے جو کہ ہم مانتے ہیں اور تاریخ بھی کہتی ہے کہ ہے تو پھر اس میں زمین کو قبائلی و شخصی و گروہی بنیادوں پر کس طرح بانٹا جا سکتا ہے اور یہ اختیار کس نظریے و حیثیت کے تحت کسی کو حاصل ہے، کسی سردار، کسی قبائلی رئیس زادے، سپہ سالار، یا پھر کسی امیرزادے کو اگر زمین پر کوئی اختیار حاصل ہے تو وہ اختیار معاشی اختیار کی حد تک ہے وہ فلاں کی زمین ہے وہ فلاں کی ملکیت ہے یہ اسکا حصہ ہے اور وہ اسکا حصہ ہے، لیکن سیاسی بنیادوں پر زمین کی اختیار اپنی متعین شدہ ناقابل تقسیم و ناقابل انتقال حیثیت کے ساتھ ایک قومی نمائندہ حکومت ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔
پھر تو 27 مارچ کو بلوچ سرزمین کے جبری قبضے کے اعتبار سے منایا جانے والا دن سیاسی بنیادی پر کامل منطقی ہے، لیکن برٹش بلوچستان میں شامل علاقوں کی بالرضا پاکستان میں شمولیت کی تاریخی حیثیت کا تعین کیسے کیا جائے کیونکہ یہ تو ہے کہ انہوں نے شمولیت تو کی تھی، دوست نے پھر بات اسی پیرائے میں گھما دی۔
تاریخ اور تاریخی حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے، تاریخی حقیقت سے ہم کیا مراد لیتے ہیں کہ جو عمل کیا گیا تھا وہ حق و صداقت پر مبنی تھا یا تاریخ میں محض اس عمل کی سرزد ہوجانے کے واقع کی تاریخی حقیقت کی بات کی جاتی ہے، جو عمل یا بات کبھی تاریخ میں سرزد ہو اور وہ کچھ وزن رکھتی ہو تو وہ تاریخ میں اپنا جگہ بنا لیتی ہے، مثلا ہٹلر نے ہولوکاسٹ کا عمل انجام دیا یعنی یہودی مارے، گنتی میں جائے بغیر کہا جائے کہ بڑی بے رحمی سے مارے تو یہ تاریخ کی انمٹ حقیقت ہے، امریکی ریڈ انڈین کی نسل کو ختم کرکے جس طرح یورپین و دیگر اقوم آکر وہاں بس گئے وہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے، ویتنام جنگ، بنگالیوں کی نسل کشی، پے در پے ہونے والی دو عالمی جنگیں اور جاپان پر ہونے والے جڑواں ایٹمی حملے اور ان گنت واقعات و حادثات کو ہم تاریخی حقیقت مانتے ہیں، سب تاریخ کا حصہ ہیں اور انکی ناقابل انکار و حتمی حیثیت کی وجہ سے اگر انکو تاریخی حقیقت کہا جاتا ہے تو ٹھیک وگرنہ نتائج و اثرات کے حساب سے ہر ، ہر سانحے و واقعے کی اپنی ایک الگ حقیقت ہے، یعنی ان میں کچھ مثبت کچھ منفی، دونوں طرح کے حوادث موجود ہیں تو اسی طرح اگر بلوچ کی پاکستان میں شمولیت کی بات کو لے کر اگر بات ہورہی ہے تو اس حساب سے یہ حقیقت ہے کہ کچھ مفاد پرست و موقع شناس طبیعت کے لوگوں نے ایسے فیصلے اپنی زاتی حد تک ضرور کیئے تھے اور ان پر انگریز راج کی بچی کھچی اسٹیبلیشمنٹ کا آشیرباد بھی تھا، سو وہ پاکستان میں شامل ہوگئے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، یعنی یہ چیز تاریخ میں سرزد ہوچکی ہے، اس پر بات وقت کا ضیاں ہے بات اس پر ہونی چاہئے کی اس شمولیت کی تاریخی ” حیثیت ” کیا ہے؟ کیا وہ لوگ جو پاکستان کے ساتھ شامل ہوئے یا برطانوی راج کے طاقت کے سبب انہیں شامل ہونا پڑا وہ اپنی زاتی حیثیت میں اس امر کا اتھارٹی رکھتے تھے کہ نہیں، کیا بلوچ عوام کی منشاء بھی یہی تھی کی نہیں؟ کیا ان کی شمولیت کو جواز دیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ اس ضمن میں بلوچ قوم کھلی طور پر اور والیِ ریاست اپنے محدود طاقت کے سبب کچھ کرنے سے قاصر رہے مگر اسی تاریخی حقیقت میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس پر بہت سارے بلوچ زعماء سمیت خود والیِ ریاست خان قلات کی زبانی کلامی احتجاج بھی تاریخ کے پنوں میں رقم ہے، اور اسی احتجاج و زبانی کلامی ناپسندیدگی و اپنی تاریخی علاقوں کو واپس مانگنے کے دوران ہی قلات پر بزور شمشیر قبضہ کیا جاتا ہے تو اس پر جنگ کے طبل بھی بجتے ہیں اور جنگیں بھی ہوتی ہیں، آغا عبدالکریم خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ مورچہ زن رہے، تاریخی اعتبار سے اس شمولیت کی حیثیت کو بلوچ قوم نے کبھی تسلیم نہیں کیا، چاہے وہ زبانی کلامی احتجاج کی شکل میں ہو یا پھر ابتدائی دور کے نحیف و لاغر مگر مثال بن جانے والی مزاحمتی جنگ کی صورت میں ہو، سو یہ نام نہاد بالرضا شمولیت تاریخ میں سرزد ہونے والے شرمناک حقیقت کے سوا اور کچھ نہیں، قومیں اپنی آزاد حیثیت میں جیتی ہیں، یہ بالرضا شمولیت بعنوان رضاکارانہ غلام بن جانے کی تاریخ قوم کی مجموعی نفسیات پر ہتھوڑا بن کر پڑ رہی ہے، بالرضا کوئی شمولیت نہیں ہوتی عمرانی معاہدات ہوتے ہیں، کنفیڈریسیز بنتی ہیں، اشتراک ہوتے ہیں، مفادات کے تحت طاقت کے کاریڈورز کو آپس میں ملایا جاتا ہے مگر شمولیت نہیں کی جاتی، اگر قبضے، کسی کی شخصی موقع پرستی و چاپلوسی، سیاسی نادست رسی اور طاقت کی عدم توازن یا سیاسی مجبوریوں کے تحت یرغمال بنائے جانے کو بالرضا شمولیت کہا جاتا ہے تو یہ ان کی تاریخی نصاب کا انوکھا باب ہے جسے ابھی تک ہم ازبر کرنے میں ناکام رہے ہیں، میں نے اپنی طرف بات لپیٹنے کی کوشش کی تو دوست نے پھر زبان واہ کیا۔
اچھا چلو اگر یرغمال بنائے جانے یا قبضہ کرنے کی تاریخ اپنی جگہ موجود ہے اور وہ تاریخ اس بات کو جواز فراہم کررہی ہے کہ 27 مارچ کو بلوچ سرزمین پر قبضہ جمایا گیا تھا، تو اس ضمن میں اتنی شور و غوغہ کی ضرورت کیا تھی، کیا ہم لوگ نام نہاد ہی سہی مگر ہونے والی بالرضا شمولیت سے انکار کرکے تاریخ کو از خود مسخ کرنے کی سعی نہیں کررہے، کیا یہ رد عمل درست تھا جس طرح سے اس ایشو کو لیا گیا، کیا اسے اس طرح لیا جانا چاہئیے تھا، کیا ادارتی و علمی سطح پر اور بردباری و معاملہ فہمی سے بات کرنے کی بجائے انتہائی طرز کی زبان استعمال کرنے اور کسی کو ملزم سے مجرم بنانے میں کیا سرعت سے کام نہیں لیا گیا؟
تاریخ کے ساتھ ہمیشہ جبر ہوتا چلا آرہا ہے، متمدن تاریخ میں مہذب قومیں بھی اس عمل میں شریک رہی ہیں اور آج تک یہ عمل جاری ہے، 2009 کو روزنامہ ٹیلی گراف میں Graeme Paton نے اپنے مضمون میں ادارہ برائے معاصر برطانوی تاریخ کے پروفیسر Pat Thane کے حوالے سے لکھا ہے کہ
“There is widespread abuse and misuse of history in public life, ranging from the silly to the downright dangerous. Bad history can create real problems by distorting understanding of contemporary issues when politicians and others use history as a rhetorical tool to conjure up past golden ages, appeal to founding fathers or simply to rewrite it for political ends.”
تاریخ تو دونوں طرف سے مار کھا رہی ہے اور اس میں سیاسی بیانیے اور در پردہ مقاصد کا اہم کردار شامل ہے، ایک تاریخ کو مسخ کرنے میں جھٹی ہوئی ہے اور دوسری طرف لوگ اس کو منطقی بنیادوں پر ثابت کرنے کی بجائے تاریخ کی اپنی ہی ایک تشریح لے کر بیٹھ گئے ہیں، سو “دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی”، باقی رہی بات بلوچ سیاست میں ادارتی گفت و شنید و معاملہ فہمی کی تو میں آپ کو یاد دلاتا ہوں، اگر آپ کو یاد ہو ایک دفعہ آپ ہی نے کہا تھا کہ بلوچستان ایک آتش کدہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اور اس میں ہر چیز بھسم ہورہی ہے، جہاں اشک و لہو کی بہتی اس بحرِ بے کراں میں ہر طرف تاریکیوں کا راج ہے، تو ساتھ بیٹھے ایک دوست نے لقمہ دیا تھا کہ ستم ظریفی کی انتہا بھی ملاحظہ ہو کہ اسی آتش کدہ میں لپٹی اشک و لہو کی بے کراں سمندر میں ایک ہیجانی ناٹک برپا ہے، اگر برا نہ مانیے گا تو یہ اسی ہیجانی ناٹک کا تسلسل ہے، جو عشروں بعد بھی جاری ہے، کردار بدلتے ہیں، صورتیں خاک میں پنہاں اور عیاں ہوتی ہیں اور ناٹک برابر چلتی جاتی ہے، لہو کا مول اور اشکوں کی ارزانی کا یہ عالم ہے کہ ہم آج بھی سوج بھوج سے زیادہ نکڑ پر بیٹھے بازاری مٹر گشت نوجوانوں کی طرح بڑی عجلت و سرعت سے رد عمل دینے کے عادی بن چکے ہیں، ہر کوئی اپنے آپ میں طرم خان ہے، تاریخی نصاب موجود ہے جسے بلوچ آذادی پسند حلقوں میں تسلیم کیا جا چکا ہے، اندازہ کرلو جس کو آپ جس بات پر لعن و طعن سے بھرے رد عمل دے رہے وہ خود اپنی پارٹی کے اندر پچھلے کئی سالوں سے اسی دن کو جبری قبضے کے حوالے سے مناتے چلے آرہے ہیں، بجائے کسی لعن و طعن کے ادارتی بنیادوں پر اسکی اسی ماضی کے سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اسفسار کیا جاتا، باہمی رابطہ قائم کیئے جاتے گفت و شنید ہوتی، مگر ادارتی رابط کاری اپنی جگہ یہاں تو رد عمل دینے میں سبھی طرم خان مونچھوں کو تاؤ دیتے اور پلو لہراتے کھود پڑے، چلو بھائی نوچنے کو ایک اشو مل گیا ہے اور سب لوگ کرگس کی طرح سیاسی فضا میں اپنی بیان بازیوں سے پرواز کرنے میں جھٹ گئے، ادارے کہاں ہیں، پارٹی موقف کہاں ہے؟ تنظیمی جواب ندارد کیونکہ سب اپنے آپ میں تنظیم ہیں، سب کا اپنی زاتی سند بانٹنے کا سیاسی کاروبار ہے، وہ یہ بھی چاہتے ہیں ہماری طرح اور لوگ بھی اس طوفان بد تمیزی میں ہمارا ساتھ دیں، اسی سرعت سے ردعمل کا اظہار کریں، کیوں ایک پارٹی یا تنظیم سے دسیوں لوگ اپنا موقف دے دیتے ہیں اور پارٹی موقف دینے میں تہی دامن ہے، یہی سے اندازہ لگا لیجئے سیاسی حوالے سے اپنی بلوغت کی قد کاٹی کیا ہے، سوشل میڈیا میں دیکھو کچھ لوگوں کے لیئے ایسے اشو محض وقت گزاری و مشغلہ بن چکے ہیں ماسوائے چند ایک منطقی باتوں کے سب ہیجانی ناٹک کی اسٹیج پر اپنی ، اپنی دھن می بد مست ہوئے پڑے ہیں، آپ معاملہ فہمی کی بات کرتے ہیں، معاملہ فہمی تو افہام و تفہیم کا نام ہے جس میں منطق و دلیل مکالمے کی ضرورت ہے لیکن اپنے ہاں تو ایک ریس لگی ہوئی ہے، اس ریس ہم خود جس طرح گندگی میں لتھڑے پڑے ہیں تو ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اسی گندگی میں ہماری طرح سر تا پیر ڈوبے رہیں اور اس ہیجانی ناٹک کو ایک آدھ اور کردار مل جائے، مگر خود بلوچستان اس آتش کدہ میں کیا کتھا سنا رہی ہے اس سے کسی کو کوئی سرو کار نہیں، بس اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا غم سب کو کھائے جارہی ہے، سو بھانت، بھانت کی بولیاں اور طرح ، طرح کے کردار اپنی پوشاک پہنے اور طنز و مزاح کے نشتر لیئے اپنی ڈائیلاگ کی تیاری میں مصروف ہے، اس پورے ہیجانی منظرنامے میں سنجیدہ پن اور سیاسی مکالمے سے راہ نکالنے کی ترکیب گئی تیل لینے، اور پھر لہو سے تربہ تر ایک ژولیدہ لاش پر کھڑی اشکوں میں ڈوبی غمزدہ خاندان کی آہ و بقاء ہیجانی ناٹک سے پھوٹنے والے قہقوں کی نزر ہوجاتی ہیں اور پردہ گر جاتا ہے۔















