کوئٹہ(ہمگام نیوز)بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جانب بلوچستان بھر میں آبادیوں پر بمباری اور شہریوں کو اغواکرکے اپنے ٹارچر سیلوں میں منتقل کرنے کی شدید الٖفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے بلوچستان بھر میں اپنے جاری خونی آپرینشنوں میں معتدد معصوم بلوچوں کو اغوا کرکے اپنے ٹارچر سیلوں منتقل کردیا ہے انہوں نے کہا ہیکہ پاکستانی آرمی نے علاقے میں سرگرم اپنی مذہبی شدت پسند لشکر خراسان کے انتہا پسندوں کے ساتھ ملکر چار اکتوبر کی صبح تربت کے علاقے پیدارک اور گوارکوپ کے کہی دیہاتوں کا گھیراو کیااور وہاں خواتیں اور بچوں کی بے حرمتی کرنے کے ساتھ گھروں میں قیمتی ایشیا کو لوٹنے کے بعد گھروں کو جلاکر راکھ کردیا اسی دوراں علاقے میں موجود نعیم علی محمد، عادل نعیم، کمبر ولد سخی داد، واحد ولد عرض محمد، بابر رمضان، ٹافی ولد شہداد اور کہی بے گناہ بلوچوں جن کے نام مواصلاتی نظام جام ہونے کی سبب پوری طور پر معلوم نہ ہوسکے اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ مرکزی ترجمان نے خدشات کا اظہار کرکے مزید کہا کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اغوا ہونے والوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ پہلے سے آرمی کے ٹارچر سیلوں سے لاپتہ بلوچوں کو تشدد کرکے پھر انکی مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جارہی ہیں ترجمان نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ شب ریاستی فورسز نے کولواہ ڈندار کے مخلتف علاقوں سکگ اعظم بازار، یعقوب بازار سگک، کڈے ہوٹل، مراستان، بلور سمیت دیگر علاقوں پر زمینی اور فضائی حملہ کرکے کہیں گھروں کو مسمار کرنے اور جلانے بعد وہاں سے ہاشم ولد چار شمبے، راشد ولد مراد، زبیر ولد نبی داد، ناگمان ولد کیچو، حسن ولد کریم بخش، حسن ولد کیچو اور لطیف ولد بھڑی کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ تمام گاوں کے ضروریات خورد نوش اور قیمتی سامان کو اپنے ساتھ لے نے بعد گھروں کو جلایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی اداروں کی خاموشی اور میڈیا پر بلوچستان میں داخل ہونے کی پابندی کی وجہ سے پاکستانی فورسز کی بربریت میں روز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور بلوچ نسل کشی عروج پر جس کی اقوام متحدہ سمیت عالمی ممالک مداخلت سے روک تھام کی جاسکتی ہے، انہوں نے بلوچستان میں پاکستانی بربریت کو روکنے کیلئے عالمی برادری سے بھرپور اپیل کی ہے۔


