کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچستان کے شہروں کوئٹہ، آواران، مستونگ اور خضدار سے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے 2 پشتون نوجوان رہنماؤں اور 2 سگے بھائیوں سمیت 6 بلوچ فرزندوں کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا۔
جبری گمشدی کا پہلا واقعہ کوئٹہ کے علاقے سریاب کے مقام کلی بنگلزئی میں پیش آیا ہے جہاں سے 4 مارچ 2024 کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں نے چھاپہ مارکر ریاض احمد ولد فتح محمد ساکن بی بی زیارت کو اغواء کرکے جبراً گمشدہ کردیا ہے۔
فیملی ذرائع کے مطابق گمشدگی کو آج 20 روز مکمل ہوگئے ہیں تاہم ریاض بنگلزئی بلوچ کے حوالے سے تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے کہ وہ کس حال میں ہے اور کہاں ہے۔
جبراً گمشدگی کا دوسرا واقعہ؛
پشتون تحفظ موومنٹ کے کوئٹہ اور لورالائی کے سینئر رہنماؤں نقیب پشتون اور عصمت کامریڈ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ بابا جان ہوٹل پرنس روڈ کوئٹہ سے مبینہ طور پر اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جن کے حوالے سے تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔
جبراً گمشدگی کا تیسرا واقعہ؛
آواران کے علاقے جھاؤ میں ملّان کے مقام پر پاکستانی فورسز نے ایک بلوچ شخص ڈاکٹر طاہر بلوچ ولد محمد عمر کو آرمی کیمپ بلاکر جبراً گمشدگی کا شکار بنا دیا۔
ڈاکٹر طاہر بلوچ آج 2 روز گزرنے کے باوجود اپنے گھر نہیں لوٹے جس کی گمشدگی کے ردعمل میں فیملی نے لسبیلہ ہائی وے بلاک کرکے بازیاب تک دھرنا جاری رکھا۔
جبری گمشدگی کا چھوتا واقعہ؛
آواران ہی کے علاقے جھاؤ سے پاکستانی فورسز نے ایک اور شخص ظفر ولد اکبر کو اغواء کرکے جبراً گمشدگی کا شکار بنا دیا ہے جس کے حوالے سے فیملی کو کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جارہی ہے۔
جبراً گمشدگی کا پانچواں واقعہ؛
خضدار کے علاقے زہری میں پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دو سگے بھائیوں کو اغواء کرکے جبراً لاپتہ کردیا جنکی شناخت میر خان ولد سید خان اور حسین خان ولد سید خان کے نام سے ہوئی ہے۔
جبراً گمشدگی کا چھٹا واقعہ؛
مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد میں گزشتہ شب رات گئے تاریکی میں پاکستانی فوسز اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے مقامی آبادی کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔
فیملی کے مطابق اہلکاروں نے خواتین و بچوں کو زدکوب کرکے انکے موبائل فونز چھین لیئے اور گھر میں سامان کی تھوڑ پھور بھی کی۔ اسی دوران گھر میں موجود نوجوان امیر حمزہ ولد مزار بلوچ کو اغواء کرکے جبراً لاپتہ کردیا۔
امیر حمزہ بلوچ کے لواحقین نے آج بروز پیر صبح 8 بجے جنگل کراس کے مقام پر اپنے پیارے کی بازیابی کیلئے دھرنے پر بیٹھنے کا اعلان کردیا ہے۔


